Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5856
وعن أبي العلاء عن سمرة بن جندب قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم نتداول من قصعة من غدوة حتى الليل يقوم عشرة ويقعد عشرة قلنا : فمما كانت تمد ؟ قال : من أي شيء تعجب ؟ ما كانت تمد إلا من ههنا وأشار بيده إلى السماء . رواه الترمذي والدارمي
برکت کہاں سے آتی تھی
اور حضرت ابوالعلاء (رح) ( تابعی) سمرہ ابن اجندب ( صحابی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا ( ظہور معجزہ کے وقت) ہم سب نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک بڑے پیالہ میں سے ( دس دس آدمی باری باری صبح سے شام تک ( یعنی پورے دن) کھاتے رہتے تھے، ہوتا یہ کہ دس آدمی کھا کر اٹھ جاتے تو ( ان کی جگہ) دوسرے دس آدمی آکر بیٹھ جاتے تھے۔ ہم نے ( حضرت سمرہ ؓ سے) پوچھا کہ آخر وہ کیا چیز تھی جس کے ذریعہ پیالہ کی مدد ہوتی تھی ( یعنی اس پیالہ میں سے کھانا کس چیز کے ذریعہ اور کہاں سے اتنا زیادہ ہوجاتا تھا؟ )۔ حضرت سمرہ ؓ نے جواب دیا تمہارے لئے اس میں تعجب کی کیا بات ہے، اس پیالہ میں ( کھانے کا اضافہ) وہاں سے، یہ کہہ کر انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ ( ترمذی، دارمی)
تشریح
تمہارے لئے اس میں تعجب کی کیا بات ہے سوال تو ان سب تابعین کی طرف سے تھا جن کے سامنے حضرت سمرہ بیان کررہے تھے، لیکن حضرت سمرہ نے جواب میں صرف حضرت ابوالعلاء کو مخاطب کیا کیونکہ اول تو وہ بھی سوال کرنے والوں میں سے ایک تھے اور دوسروں یہ کہ اس مجلس میں حضرت ابوالعلاء کی حیثیت جلیل القدر تابعین میں ہونے کی وجہ سے سب سے نمایاں تھی۔ یا یہ کہ حضرت سمرہ نے کسی ایک شخص کو یا صرف اس مجلس کے لوگوں کو مخاطب نہیں کیا بلکہ ان کا خطاب عمومی طور پر ہر شخص سے ہے جو اس حدیث کو سنے یا پڑ ہے، بہر حال حضرت سمرہ کا مطلب یہ تھا کہ اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کہ اس ایک پیالہ میں موجود ( تھوڑے سے کھانے سے اتنے زیادہ آدمی دن بھر کھاتے رہتے تھے باوجودیکہ ظاہر طور پر ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا جس سے اس پیالہ کے کھانے میں اضافہ ہوسکتا، کیونکہ یہ تو معجزے کی بات تھی، اللہ اور اللہ کے رسول کا معاملہ تھا، اللہ کے رسول ﷺ دعا کرتے تھے اور اپنے دست مبارک سے اس پیالہ کو چھوتے تھے جس کے سبب اللہ آسمان سے برکت نازل کرتا تھا اور اس پیالہ میں غیر مرئی طور پر عالم بالا سے کھانا اترتا رہتا تھا، اس میں گویا قرآن کریم کی اس آیت (وَفِي السَّمَا ءِ رِزْقُكُمْ ) 51۔ الزاریات 22) کی طرف اشارہ ہے۔
Top