Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5586
وعن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لسرادق النار أربعة جدر كثف كل جدار مسيرة أربعين سنة . رواه الترمذي وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أن دلوا من غساق يهراق في الدنيا لأنتن أهل الدنيا . رواه الترمذي وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قرأ هذه الآية : ( اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون ) قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أن قطرة من الزقوم قطرات في دار الدنيا لأفسدت على أهل الأرض معايشهم فكيف بمن يكون طعامه ؟ رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح
دوزخ کی چار دیواری :
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ کے احاطہ کے لئے چار دیواریں ہوں گی جن میں سے ہر دیوار کی چوڑائی چالیس برس کی مسافت کے برابر ہوگی۔ (ترمذی) ١٨ اور حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخیوں کے زخموں سے جو زرد پانی بہے گا (یعنی خراب خون اور پیپ) اگر اس کا ڈول بھر کر دنیا میں انڈیل دیا جائے تو یقینا تمام دنیا والے سڑجائیں۔ (ترمذی) ١٩ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے یہ آیت (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ١٠٢) 3۔ آل عمران 102) تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا اگر (دوزخ کے) زقوم یعنی تھوہر کے درخت کا ایک قطرہ بھی اس دنیا کے گھر میں ٹپک پڑے تو یقینا دنیاوالوں کے سامان زندگی کو تہس نہس کردے پھر (سوچو) اس شخص کا کیا حال ہوگا جس کی خوراک ہی زقوم ہوگی۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
حق تقاتہ (جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) کا مطلب یہ ہے، واجبات کو بجا لانا اور سیأات سے پرہیز کرنا۔ حضرت ابن مسعود نے ان الفاظ کی تفسیریوں بیان کی ہے کہ۔ ہو ان یطاع فلا یعصی ویشکر فلایکفر ویذکر فلا ینسی۔ وہ (اللہ سے ڈرنے کا حق) یہ ہے کہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور کسی حال میں اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے اور کسی بھی حال میں کفران نعمت نہ کیا جائے، اس کو یاد کیا جائے اور کسی بھی حال میں اس کو بھولا نہ جائے۔ حاکم نے یہ تفسیر و وضاحت آنحضرت ﷺ سے نقل کی ہے، اسی طرح ابن مردویہ اور ابن حاتم نے بھی اور محدثین نے اس کو صحیح قرار دیا ہے، بہرحال اگر یہ الفاظ حق تقاتہ کمال تقویٰ کو بیان کرنے کے لئے ہیں (یعنی یہ کہا جائے کہ حق تقاتہ سے مراد کمال تقویٰ ہے) تو پھر کوئی اشکال ہی نہیں ہوگا اور اگر ان الفاظ کو اصل تقویٰ کی تعبیر قرار دیا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ یہ آیت قرآن ہی کی اس دوسری آیت (فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ) 64۔ التغابن 16) کے ذریعہ منسوخ ہے کیونکہ اصل تقویٰ یعنی حق تعالیٰ سے اس کے مرتبہ کے لائق حیثیت بھلا کون بشر اختیار کرسکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد جو مضمون ارشاد فرمایا وہ اس آیت کے ساتھ کیا مناسبت رکھتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل تقوی، عذاب دوزخ سے سلامت و محفوظ رکھنے کا سبب ہے اور تقویٰ اختیار نہ کرنا گویا عذاب دوزخ میں گرفتار ہونا ہے پس آنحضرت ﷺ نے اس مناسبت سے دوزخ کے بعض عذاب کا ذکر کرنا مناسب سمجھا۔
Top