Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5577
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بين منكبي الكافر في النار مسيرة ثلاثة أيام للراكب المسرع . وفي رواية : ضرس الكافر مثل أحد وغلظ جلده مسيرة ثلاث . رواه مسلم وذكر حديث أبي هريرة : إذا اشتكت النار إلى ربها . في باب تعجيل الصلوات
دوزخیوں کے جسم :
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخ میں کافر کے جسم کو اس قدر موٹا اور فربہ بنادیا جائے گا کہ اس کے دونوں مونڈھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رو سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ دوزخ میں کافر کا دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اس کے جسم کی کھال تین دن کی مسافت کے برابر موٹی ہوگی۔ (مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت اشتکت النار الی ربہا باب تعجیل الصلوۃ میں نقل کی جاچکی ہے۔
تشریح
اس حدیث میں اہل دوزخ کے جسم کے پھیلاؤ اور مٹاپے کا ذکر ہے جب کہ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ قیامت کے دن متکبرین کو میدان حشر میں اس حالت میں لایا جائے گا کہ ان کے جسم تو چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ان کی صورتیں مردوں کی ہوں گی اور پھر انہیں ہانک کر قید خانہ میں لایا جائے گا۔ پس ان دونوں رویتوں میں تطبیق یہ ہے کہ متکبرین سے مراد مؤمن گناہ گار ہیں جب کہ مذکورہ بالا حدیث میں کفار کا ذکر کیا گیا ہے لیکن زیادہ درست یہ کہنا ہے کہ ان کو میدان حشر میں چیونٹیوں ہی کے جسم میں لایا جائے گا جہاں وہ لوگوں کے تلوؤں تلے خوب روندے جائیں گے اس کے بعد پھر ان کے بدن اپنی اصلی حالت میں آجائیں گے اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے، دوزخ میں ان کے بدن دوبارہ غیر معمولی ساخت کے ہوجائیں گے اور ان کا مٹاپا اور پھیلاؤ اتنا بڑھ جائے گا جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے نیز ان کے بدن کو اس قدر موٹا اور فربہ اس لئے کیا جائے گا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہوسکے۔
Top