Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5563
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أدنى أهل الجنة منزلة لمن ينظر إلى جنانه وأزواجه ونعيمه وخدمه وسرره مسيرة ألف سنة وأكرمهم على الله من ينظر إلى وجهه غدوة وعشية ثم قرأ ( وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة ) رواه أحمد والترمذي
اہل جنت کے مراتب
حضرت ابن عمر ؓ کہتے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنتیوں میں قدر و مرتبہ کے اعتبار سے ادنیٰ شخص وہ ہوگا جو اپنے باغات، اپنی عورتوں، اپنی نعمتوں اپنے خدمت گاروں اور اپنے (بیٹھنے واستراحت کرنے کے) تخت وکرسی پر نظر رکھے گا جو ایک ہزار برس کی مسافت کے بقدر رقبہ میں پھیلے ہوئے ہوں گے (یعنی جنت کی لامحدود وسعت میں وہ ادنیٰ مرتبہ کا شخص بھی اس قدر نوازا جائے گا کہ اس کی ملکیت و تسلط کی چیزیں ایک ہزار برس کی مسافت کے بقدر وسیع رقبہ میں پھیلی ہوئی ہوں گی اور وہ اپنی چیزوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہے گا) اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے مرتبہ وقدر کا شخص وہ ہوگا جو صبح وشام اپنے پروردگار کی ذات اقدس کے دیدار کی سعادت و صحبت حاصل کرے گا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وُجُوْهٌ يَّوْمَى ِذٍ نَّاضِرَةٌ 22 اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23) 75۔ القیامۃ 23-22) (بہت سے چہرے اس دن اپنے پروردگار کے دیدار سے تروتازہ اور خوش وخرم ہوں گے۔ (ترمذی)
تشریح
جو صبح وشام اپنے پروردگار۔۔۔۔۔۔ الخ۔ سے واضح ہوا کہ جنت میں پروردگار کا دیدار صبح وشام کے وقت نصیب ہوا کرے گا، اسی لئے حکم دیا گیا ہے کہ فجر اور عصر کی نمازوں پر مداومت اختیار کرو اور پابندی کے ساتھ ان نمازوں کو پڑھا کرو تاکہ جنت میں ان اوقات میں پروردگار کے دیدار کی سعادت کے حقدار بن سکو۔ صبح وشام پروردگار کے دیدار کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے مرتبہ وقدر کا شخص وہ ہوگا جو صبح وشام یعنی دن ورات میں ہر وقت پروردگار کی زیارت سے مشرف ہوتا رہے گا، لیکن یہ مطلب زیادہ صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ اگر بلند مرتبہ جنتی ہر وقت پروردگار کے دیدار ہی میں رہیں تو پھر جنت وآخرت کی وہ تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہونا ان کے لئے ممکن نہیں ہوگا حالانکہ وہ نعمتیں انہی جنتیوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں! بہرحال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کی اصل بڑائی اور بلند ہمتی یہی ہے کہ نگاہ ودل کا اصل مرکز ماسوائے حق کے کسی اور چیز کو نہ بنائے، ساری توجہ اور نظر حق تعالیٰ ہی کی طرف رکھے، اس کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی توجہ والتفات رکھنا پست ہمتی کی دلیل ہے۔
Top