Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5232
وعن المهاجر بن حبيب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الله تعالى إني لست كل كلام الحكيم أتقبل ولكني أتقبل همه وهواه فإن كان همه وهواه في طاعتي جعلت صمته حمدا لي ووقارا وإن لم يتكلم رواه الدارمي .
حسن نیت کی اہمیت
حضرت مہاجر بن حبیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں عقلمند ودانشور کی ہر بات کو قبول نہیں کرتا (یعنی میرا دستور یہ نہیں ہے کہ عالم وفاضل اور علمند و دانا شخص جو بات بھی کہے اس کو قبول کرلوں) بلکہ میں اس کے قصد و ارادہ کو اور اس کی محبت ونیت کو قبول کرتا ہوں (یعنی یہ دیکھتا ہوں کہ اس نے جو بات کہی ہے وہ کس قصد و ارادہ اور کس نیت کے ساتھ کہی ہے) پس اگر اس کی نیت و محبت میری طاعت و فرمانبرداری کے تئیں ہوتی ہے تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد و ثنا اور اس کے حلم و وقار کے مرادف قرار دیتا ہوں اگرچہ وہ کوئی بات نہ کہے۔ (دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک محض گفتار کے غازی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، وہاں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ بات کہنے والا دانش و حکمت سے قطع نظر اپنی نیت میں کتنا مخلص ہے۔ اگر وہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی نیت اور اپنے دل میں اللہ کے احکام کی محبت و عظمت رکھتا ہے تو اس کی خاموشی بھی علم و وقار کا مایہ افتخار اور اللہ کے نزدیک مستحسن و محمود قرار پاتی ہے کہ اگر وہ زبان سے کچھ نہ کہے تو بھی وہ ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کی حمد و ثنا میں رطب اللسان ہے۔ اور اگر اس کی نیت اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی نہ ہو اور اس کے دل میں احکام الٰہی کی عظمت و محبت کا فقدان ہو تو اس کی ہر بات لغو اور ناقابل اعتناء قرار پاتی ہے اگرچہ اس کے الفاظ ومعنی علم و حکمت سے کتنے ہی پر کیوں نہ ہوں کیونکہ اس صورت میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھا جاسکتا کہ وہ ریا کاری میں مبتلا ہے اور جو بھی بات کہہ رہا ہے، اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا سنانا اور اس کے ذریعہ شہرت وناموری حاصل کرنا ہے۔
Top