Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 5221
عن أبي تميمة قال شهدت صفوان وأصحابه وجندب يوصيهم فقالوا هل سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا ؟ قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من سمع إن أول ما ينتن من الانسان بطنه فمن استطاع أن لا يأكل إلا طيبا فليفعل ومن استطاع أن لا يحول بينه وبين الجنة ملء كف من دم اهراقه فليفعل . رواه البخاري .
سمعہ کی مذمت
حضرت ابوتمیمہ تابعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت صفوان اور ان کے ساتھیوں کی مجلس میں اس وقت حاضر ہوا کہ جب مشہور اور جلیل القدر صحابی حضرت جندب ؓ بن عبداللہ بن سفیان بجلی حضرت صفوان اور ان کے ساتھیوں کو ریاضت و مجاہدہ کی راہ مستقیم اختیار کرنے یا کثرت کے ساتھ عبادت کرنے یا طاعت میں میانہ روی اختیار کرنے اور یا سمعہ و ریا اور حصول شہرت کی طلب و خواہش سے احتراز و اجتناب کرنے کی نصیحت فرما رہے تھے۔ پھر حضرت صفوان اور ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے رسول کریم ﷺ سے کچھ سنا ہے؟ (یعنی اگر آپ نے حضور ﷺ کی کوئی حدیث سنی ہے تو اس کو ہمارے سام بےبیان فرمائیے اور ہمیں ارشاد نبوی ﷺ سے بہرہ مند ہونے کا موقع دیجئے۔ حضرت جندب ؓ نے یہ حدیث بیان کی میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ۔ جو شخص سنائے گا (یعنی لوگوں کے سنانے اور شہرت حاصل کرنے کے لئے جو کوئی نیک کام کرے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو رسوا کرے گا۔ اور جو شخص مشقت میں ڈالے گا (یعنی اپنی ہمت و طاقت سے بڑھ کر کوئی کام کرنے کی صورت میں اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلا کرے گا یا کسی دوسرے شخص مثلا اپنے خادم یا نوکر چاکر وغیرہ کو کسی ایسے کام پر مامور کر کے، کہ جو اس کی ہمت و طاقت سے باہر ہو، ناقابل برداشت محنت ومشقت کی اذیت میں مبتلا کرے گا)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن مشقت میں ڈالے گا۔ یہ سن کر انہوں نے (یعنی صحابہ نے آنحضرت ﷺ سے یا حضرت صفوان اور ان کے ساتھیوں نے حضرت جندب سے کہا) کہ ہمیں کچھ اور نصیحت فرمائیے تو (حضور ﷺ نے یا حضرت جندب نے) فرمایا۔ انسان کی جو چیز سب سے پہلے گندی اور خراب ہوتی ہے وہ اس کا پیٹ ہے (یعنی جو چیز انسان کو سب سے پہلے زیادہ برائی میں مبتلا کرتی ہے سب سے پہلے دوزخ کی آگ کا مستوجب بناتی ہے اور آخرت میں سب سے پہلے دوزخ میں جانے اور عذاب بھگتنے کا باعث بنے گی وہ اس کا پیت ہے پس جو شخص اس کی قدرت رکھتا ہو کہ اس چیز کے علاوہ اور کچھ اپنے پیٹ میں نہ پہچنائے جو حلال و جائز ہے تو بیشک اس کو ایسا ہی کرنا چاہئے اور جو شخص اس کی قدرت رکھتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان ناحق بہایا جانے والا ایک چلو خون حائل ہو تو بیشک اس کو ایسا ہی کرنا چاہئے کہ کسی کا ایک چلو بھی ناحق خون بہانے سے احتراز کرے۔ (بخاری)
تشریح
حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ ناحق خونریزی ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا زیادہ ہونا تو کجا اگر ایک چلو کے بقدر بھی ہو تو جنت میں جانے سے روکنے والی ہے پس یہ بات عقل دانائی سے بعید تر ہے، یکہ ایسے برے اور قابل نفرین فعل کا ارتکاب کیا جائے جو انسانیت کے منافی نہیں ہے بلکہ جنت میں داخل ہونے جیسی عظیم و اہم سعادت سے محروم رکھنے والا بھی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صفوان سے مراد صفوان بن سلیم زہری ہیں جو مدینہ کے ایک نہایت جلیل القدر تابعی تھے اور جن کی شخصیت، علم و معرفت، کردار وعمل، زہد وتقوی اور عبادت و ریاضت کا ایک مثالی نمونہ تھی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے چالیس برس تک اپنا پہلو زمین سے نہیں لگایا اور عبادت گزاری کا یہ عالم تھا کہ سجدوں کی کثرت سے ان کی پیشانی میں سوراخ ہوگیا تھا، ان کے حالات میں یہ لکھا ہے کہ وہ امراء و سلاطین کا کوئی بھی انعام و اکرام قبول نہیں کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کے بہت زیادہ فضائل ومناقب بیان کئے جاتے ہیں۔
Top