Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 428
وعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَطُوْفُ عَلٰی نِسَآئِہٖ بِغُسْلٍ وَّاحِدٍ۔(صحیح مسلم)
غسل کا بیان
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک غسل کے ساتھ اپنی ازواج مطہرات سے صحبت کرلیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شب میں اپنی تمام ازواج مطہرات سے صحبت کیا کرتے تھے اور غسل ایک ہی مرتبہ آخر میں فرماتے تھے یہ نہیں تھا کہ ایک بیوی سے صحبت کے بعد پہلے غسل کرتے ہوں، پھر بعد میں دوسری بیوی کے پاس جاتے ہوں۔ ہاں اس کا احتمال ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ درمیان میں وضو فرما لیتے ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے وضو کو ترک کردیا ہو۔ اس موقع پر ایک ہلکا سے اعتراض ہوسکتا ہے وہ یہ کہ قاعدہ شرعی کے مطابق اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کا اقل درجہ ایک رات ہے۔ یعنی اگر کسی آدمی کے پاس چند بیویاں ہوں تو ان کے درمیان باری مقرر کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر ایک بیوی کے یہاں کم از کم ایک پوری شب قیام کیا جائے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ایک ہی رات میں تمام ازواج مطہرات کے پاس کس طرح جایا کرتے تھے؟ اس کا جواب یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لئے باری مقرر کرنے کا یہ وجوب مختلف فیہ ہے، چناچہ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ پر باری مقرر کرنا واجب نہیں تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے از خود راہ احسان باری مقرر فرما رکھی تھی مگر اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بھی باری مقرر کرنا واجب تھا۔ لیکن آپ ﷺ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی شب میں خود ان کی رضا و خوشی سے جایا کرتے تھے لہٰذا اس پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا۔
Top