Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 2686
وعن ناجية الخزاعي قال : قلت : يا رسول الله كيف أصنع بما عطب من البدن ؟ قال : انحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم خل بين الناس وبينها فيأكلونها . رواه مالك والترمذي وابن ماجهورواه أبو داود والدارمي عن ناجية الأسلمي
قریب المرگ ہدی کا حکم
حضرت ناجیہ خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہدی کے جانوروں میں سے جو جانور کسی بھی وجہ سے قریب المرگ ہوں تو میں اس کا کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس جانور کو ذبح کر ڈالو پھر اس کی جوتی کو اس کے گلے میں بطور ہارپڑی ہو اس کے خون میں رنگ دو اور اس کے ذریعہ اس کی گردن پر نشان لگا دوں اس کے بعد اس جانور کو لوگوں کے درمیان چھوڑ دو (یعنی اس کا گوشت کھانے سے فقراء کو منع نہ کرو) تاکہ وہ اسے کھائیں۔ (مالک، ترمذی، ابن ماجہ) ابوداؤد اور دارمی نے اس روایت کو حضرت ناجیہ اسلمی سے نقل کیا ہے۔
تشریح
تاکہ وہ اسے کھائیں کا مطلب یہ ہے کہ رفقاء قافلہ کے علاوہ خواہ وہ اغنیاء ہوں یا فقراء، دوسرے فقراء اس جانور کے گوشت کو اپنے استعمال میں لائیں۔ اس بارے میں پوری تفصیل پہلی فصل میں گزر چکی ہے۔ مذکورہ بالا حدیث کو مالک، ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ناجیہ خزاعی سے نقل کیا ہے اور ابوداؤد اور دارمی نے حضرت ناجیہ اسلمی سے۔ اس طرح بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کے دو راوی ہیں ایک ناجیہ خزاعی اور دوسرے ناجیہ اسلمی۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ صحابہ میں ناجیہ نام کے صرف ایک ہی صحابی ہیں لہٰذا محدثین اس بارے میں لکھتے ہیں یہاں اختلاف صرف نسب کا ہے ذات ایک ہی ہے یعنی ناجیہ خزاعی اور ناجیہ اسلمی ایک ہی صحابی کا نام ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ بعض نے تو انہیں ناجیہ خزاعی کے نام سے ذکر کیا ہے اور بعض نے ناجیہ اسلمی کہا ہے کیونکہ خزاعی اور اسلمی یہ دونوں ان کے قبیلہ کے نام ہیں۔
Top