Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (192 - 266)
Select Hadith
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
مشکوٰۃ المصابیح - علم کا بیان - حدیث نمبر 2583
وعنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أدخل رجله في الغرز واستوت به ناقته قائمة أهل من عند مسجد ذي الحليفة
تلبیہ کب کیا جائے
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب اپنے پاؤں رکاب میں ڈالے اور اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے قریب تلبیہ کیا (یعنی بآواز بلند لبیک کہی) (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر رخت سفر باندھا اور ظہر کی نماز مدینہ میں پڑھ کر روانہ ہوئے۔ عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی جو اہل مدینہ کے لئے میقات ہے رات وہیں گزاری اور پھر صبح کو آپ ﷺ نے احرام باندھا۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ کر اور اونٹ کے کھڑے ہوجانے کے بعد لبیک کہی جب ایک دوسری روایت میں یہ منقول ہے کہ احرام کے لئے بہ نیت نفل دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد لبیک کہی نیز ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ آپ ﷺ نے بیداء پہنچ کر جو ایک بلند جگہ کا نام ہے لبیک کہی اس طرح لبیک کہنے کے وقت کے سلسلہ میں تین طرح کی روایتیں منقول ہیں۔ چناچہ حضرت امام شافعی نے تو پہلی روایت پر کہ جو یہاں نقل کی گئی ہے عمل کرتے ہوئے کہا کہ اونٹ پر (یا جو بھی سواری ہو اس پر) بیٹھ کر لبیک کہی جائے، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد نے دوسری روایت کو اختیار کیا ہے۔ لہٰذا ان تینوں ائمہ کے ہاں مستحب یہ ہے کہ دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے بعد احرام کی نیت کی جائے اور پھر وہیں مصلیٰ پر بیٹھے ہی ہوئے لبیک کہے تو یہ جائز ہے لیکن نماز کے بعد ہی لبیک کہنا افضل ہے۔ اب ان تینوں روایتوں کے تضاد کو اس تطبیق کے ساتھ دور کیجئے کہ آنحضرت ﷺ نے نماز پڑھ کر مصلےٰ پر بیٹھے ہوئے لبیک کہی پھر جب اونٹنی پر بیٹھے تو اس وقت بھی لبیک کہی اور اس کے بعد جب مقام بیداء پر پہنچے تو وہاں بھی لبیک کہی چناچہ علماء نے اسی لئے لکھا ہے کہ حالت وقت اور جگہ کے تغیرات کے وقت لبیک کی تکرار مستحب ہے۔ بہر کیف آپ ﷺ نے اس طرح تین مرتبہ لبیک کہی اور جس راوی نے جہاں لبیک کہتے سنا وہ یہ سمجھا کہ آپ ﷺ نے یہیں سے لبیک کہنی شروع کی ہے اس لئے ہر ایک راوی نے اپنے سننے کے مطابق ذکر کردیا۔ اس تطبیق و توجیہ کی بنیاد حضرت ابن عباس ؓ کی وہ روایت ہے جسے شیخ عبدالحق نے اشعۃ اللمعات میں شرح کتاب خرقی کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
Top