Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (3969 - 4060)
Select Hadith
3969
3970
3971
3972
3973
3974
3975
3976
3977
3978
3979
3980
3981
3982
3983
3984
3985
3986
3987
3988
3989
3990
3991
3992
3993
3994
3995
3996
3997
3998
3999
4000
4001
4002
4003
4004
4005
4006
4007
4008
4009
4010
4011
4012
4013
4014
4015
4016
4017
4018
4019
4020
4021
4022
4023
4024
4025
4026
4027
4028
4029
4030
4031
4032
4033
4034
4035
4036
4037
4038
4039
4040
4041
4042
4043
4044
4045
4046
4047
4048
4049
4050
4051
4052
4053
4054
4055
4056
4057
4058
4059
4060
مشکوٰۃ المصابیح - شکار کا بیان - حدیث نمبر 2816
وعن أبي مسعود الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
کتے کی قیمت کا مسئلہ
اور حضرت ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت بدکار عورت کی اجرت اور کاہن کے حلوان یعنی اس کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
تشریح
کتے کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے سلسلہ میں تفصیلی بحث اس سے پہلی حدیث کی تشریح میں کی جا چکی ہے چناچہ اس حدیث میں کتے کی قیمت کے ممنوع ہونے کا جو حکم بیان کیا گیا اس کے بارے میں حنفی علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تھا جب کہ آنحضرت ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا نیز آپ نے کتوں سے فائدہ حاصل کرنی کی بھی ممانعت کردی تھی مگر پھر بعد میں آپ نے یہ اجازت دے دی تھی کہ کتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یہاں تکہ یہ بھی منقول ہے کہ ایک شخص نے ایک شکاری کتے کو مار ڈالا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ مالک کو اس کتے کے بدلہ میں ایک دنبہ دے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نہ تو کتے کی خریدوفروخت جائز ہے اور نہ کسی کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے کتا خواہ معلم ہو یا غیر معلم ہو اسی طرح خواہ اس کتے کا پالنا جائز ہو یا ناجائز ہو لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کتے کی خریدو فروخت جائز قرار دی ہے جس سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو مثلا گھر بار کی نگرانی یا ریوڑ گلوں کی نگہبانی وغیرہ نیز حضرت امام اعظم نے ایسے کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے۔ بدکار عورت کے اس مال کا حکم جو اس نے اپنی بدکاری کی اجرت کے طور پر حاصل کیا ہو گذشتہ حدیث کی تشریح میں ذکر کیا جا چکا ہے کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو آنیوالے زمانہ کی خبریں بتایا کرتا ہے اسی طرح حلوان کے لغوی معنی اگرچہ شیرینی اور مٹھائی ہے لیکن اصطلاحی طور پر عربی میں حلوان اس اجرت کو کہتے ہیں جو کاہن آئندہ کی خبریں معلوم کرنے والے سے وصول کرتا ہے خواہ وہ مٹھائی اور کھانے وغیرہ کی صورت میں ہو یا کپڑے زیور اور نقدی وغیرہ کی شکل میں کاہن کی اجرت کو حلوان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح شیرینی اور مٹھائی کھانے سے طبیعت کو فرحت محسوس ہوتی ہے اسی طرح کاہن کو اپنی یہ اجرت لے کر بہت ہی فرحت محسوس ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی محنت ومشقت کے وہ اچھا خاصا مال بٹور لیتا ہے۔ یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ جس طرح کاہن کے پاس جانا اور ان سے آئندہ کی خبریں معلوم کرنا حرام ہے اسی طرح پوشیدہ باتوں کو معلوم کرنے کے لئے نجومی اور پامسٹ وغیرہ کے پاس جانا اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرنا حرام ہے اس بارے میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اس کی تفصیلی بحث انشاء اللہ باب السحر والکہانۃ میں آئے گی۔
Top