قرآن کریم اور خوش گلوئی
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہمارے کامل طریقہ پر چلنے والا نہیں ہے جو قرآن کریم خوش گوئی کے ساتھ نہ پڑھے۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کو خوش گوئی اور خوش آوازی کے ساتھ پڑھنا چاہئے بشرطیکہ حروف، حرکات مد، تشدید یا اسی طرح اور کسی چیز میں تغیر پیدا نہ ہو، اسی طرح راگ کے طور پر بھی نہ ہو، بلکہ اس بارے میں تو مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص قصدا قرآن کریم راگ کے انداز میں پڑھے گا وہ فعل حرام کا مرتکب ہوگا اس سے اجتناب ضروری ہے۔