Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 5532
وعن أبي سعيد قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى يقول لأهل الجنة يا أهل الجنة فيقولون لبيك ربنا وسعديك والخير كله في يديك فيقول : هل رضيتم ؟ فيقولون : وما لنا لا نرضى يا رب وقد أعطيتنا ما لم تعط أحدا من خلقك ؟ فيقول ألا أعطيكم أفضل من ذلك ؟ فيقولون : يا رب وأي شيء أفضل من ذلك ؟ فيقول : أحل عليكم رضواني فلا أسخط عليكم بعده أبدا . متفق عليه
حق تعالیٰ کی خوشنودی
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنتیوں کو ( مخاطب کرنے کے لئے) آواز دے گا کہ اے جنتیو! تمام جنتی ( یہ آواز سن کر) جواب دیں گے کہ ہمارے پروردگار! ہم حاضر ہیں، تیری خدمت میں موجود ہیں، تمام تر بھلائی تیرے ہی قبضہ قدرت اور ارادے میں ہے ( کہ جس کو چاہے عطا کرے )۔ اللہ تعالیٰ فرماے گا ( میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ) کیا تم ( جنت کا انعام پاکر ( مجھ سے راضی وخوش ہو؟ وہ عرض کریں گے کہ پروردگار! بھلا ہم آپ سے راضی وخوش کیوں نہیں ہوں گے، آپ نے تو ہمیں وہ بڑی سے بڑی نعمت اور سرفرازی عطا فرمائی ہے جو اپنی مخلوق سے کسی کو بھی عطا نہیں کی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں اس سے بھی بڑی اور اس سے بھی بہتر نعمت تمہیں عطا نہ کروں؟ وہ کہیں گے کہ پروردگار! اس سے بھی بڑی اور اس سے بھی بہتر نعمت اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہیں اپنی رضا و خوشنودی عطا کروں گا اور پھر تم سے کبھی نا خوش نہ ہوں گا۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
مولیٰ کریم کا اپنے بندے سے راضی وخوش ہوجانا تمام نعمتوں اور سعادتوں کے حاصل ہوجانے کی ضمانت ہے لہٰذا جب پروردگار اہل جنت کے تئیں اپنی رضا و خوشنودی کا اظہار فرما دے گا تو گویا انہیں تمام ہی نعمتیں اور سرفرازیاں حاصل ہوجائیں گی اور عظیم ترین نعمت دیدار الہٰی، بھی اسی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ پہلے حق تعالیٰ جنتیوں سے پوچھیں گے کہ آیا تم مجھ سے خوش و راضی ہو؟ اور جب ان کی طرف سے اثبات میں جواب مل جائے گا تب حق تعالیٰ ان کے تئیں اپنی رضا و خوشنودی کا اظہار فرمائیں گے۔ تاکہ واضح ہوجائے بندے سے اللہ تعالیٰ کے راضی وخوش ہونے کی دلیل و علامت یہ ہے کہ وہ بندہ اللہ تعالیٰ کو راضی وخوش پاتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس کا پروردگار بھی اس سے راضی وخوش ہے منقول ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپس میں یہ بحث وتمحیص اور غور وفکر کیا کرتے تھے کہ اس بات کو جاننے کا ذریعہ کیا ہوسکتا ہے کہ ہمارا پروردگار ہم سے راضی وخوش ہے؟ آخر کار انہوں نے اس پر اطلاق کیا کہ خود ہم اپنے رب سے راضی وخوش ہیں تو ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ ہمارا رب بھی ہم سے راضی وخوش ہے۔ اور پھر تم سے کبھی ناخوش نہ ہوگا۔ ظاہر ہے یہ اہل جنت کے حق میں سب سے بڑی سرفرازی کی بشارت ہوگی کہ ان کا پروردگار ہمیشہ ہمیشہ ان سے راضی وخوش رہے گا۔ اس سعادت ونعمت سے بڑی سعادت ونعمت اور کیا ہوسکتی ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی تھوڑی سی بھی رضا و خوشنودی پوری جنت اور جنت کی تمام نعمتوں اور سعادتوں سے بڑھ کر ہے چہ جائیکہ وہ رضا و خوشنودی مستقل طور پر اور ہمیشہ کے لئے حاصل ہوجائے، خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ورضوان من اللہ اکبر لہٰذا ہر صاحب ایمان کو یہی التجا کرنی چاہئے کہ اللہم ارض عنا وارضنا عنک ( اے اللہ! ہم سے راضی ہوجائیے اور ہمیں اپنے سے راضی کیجئے۔
Top