Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 3935
عن معاذ : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما وجهه إلى اليمن أمره أن يأخذ من كل حالم يعني محتلم دينارا أو عدله من المعافري : ثياب تكون باليمن . رواه أبو داود
جزیہ کی مقدار
حضرت معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول کریم ﷺ نے ان ( معاذ) کو ( قاضی و حاکم بنا کر) یمن روانہ کیا تو ان کو یہ ہدایت کی کہ وہ ( وہاں کے) ہر حاکم یعنی ہر بالغ سے ایک دینار یا ایک دینار کی قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے (جزیہ کے طور پر) لیں ( ابوداؤد)
تشریح
ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ جزیہ نہ تو عورت پر عائد ہوتا ہے اور نہ بچے پر۔ ( اسی طرح مجنوں، اندھے اور فالج زدہ پر بھی) جز یہ واجب نہیں ہوتا۔ نیز وہ بوڑھا جو لڑنے اور کام کرنے پر قادر نہ ہو اور وہ محتاج جو کوئی کام کرنے پر قادر نہ ہو جز یہ سے مستثنیٰ ہے یہ حدیث بظاہر امام شافعی (رح) کے مسلک کی دلیل ہے جن کے نزدیک جزیہ کی واجب مقدار کے بارے میں غنی اور فقیر (یعنی امیر و غریب) برابر ہیں کیونکہ اس حدیث میں کوئی تخصیص کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک غنی ( امیر) پر ہر سال اڑتالیس درہم واجب ہوتے ہیں جو ہر مہینے چار درہم کے حساب سے ادا کرنے ہوتے ہیں، درمیانی درجہ والے پر ہر سال چوبیس درہم ہوتے ہیں جنہیں وہ ہر ماہ دو دو درہم کر کے ادا کرے گا اور فقیر یعنی نچلے طبقہ والے پر جو کمانے والا ہو بارہ درہم واجب ہوتے ہیں جنہیں وہ ہر ماہ ایک ایک درہم کرکے ادا کرے گا۔ اسی حنفی مسلک کے بارے میں ہدایہ میں لکھا ہے کہ یہ مسلک حضرت عمر، حضرت عثمان ؓ سے منقول ہے نیز انصار و مہاجرین میں سے کسی سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں ہے اور جہاں تک اس حدیث کا سوال ہے جس میں ہر بالغ سے ایک ایک دینار لینا روایت کیا گیا ہے تو یہ صلح کی صورت پر محمول ہے کہ یمن چونکہ جنگ وجدال کے ذریعے فتح نہیں ہوا تھا بلکہ باہمی صلح کے ذریعہ یمن والوں نے اپنے آپ کو مسلمانوں کے تسلّط و اقتدار میں دے دیا تھا لہٰذا جزیہ کے بارے میں بھی ان کے ساتھ مذکو رہ مقدار پر مصالحت ہوئی۔ یا یہ اس پر محمول ہے کہ اہل یمن چونکہ مالی طور پر بہت پس ماندہ اور خستہ حال تھے اس لئے ان پر جزیہ کی وہی مقدار واجب کی گئی جو فقراء ( غریبوں) پر واجب کی جانی چاہئے تھی۔
Top