Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 3781
وعن فضالة بن عبيد قال : سمعت عمر بن الخطاب يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الشهداء أربعة : رجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك الذي يرفع الناس إليه أعينهم يوم القيامة هكذا ورفع رأسه حتى سقطت قلنسوته فما أدري أقلنسوة عمر أراد أم قلنسوة النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : ورجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو كأنما ضرب جلده بشوك طلح من الجبن أتاه سهم غرب فقتله فهو في الدرجة الثانية ورجل مؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الثالثة ورجل مؤمن أسرف على نفسه لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذاك في الدرجة الرابعة . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب
شہداء کی قسمیں
اور حضرت فضالہ ابن عبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن خطاب سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شہید چار طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ شخص جو کامل الایمان مسلمان تھا اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو اس نے اللہ تعالیٰ کو سچ کر دیکھایا یہاں تک کے لڑتے لڑتے مارا گیا تو یہ وہ شخص ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ اس طرح سر اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے یہ کہہ کر انہوں نے اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ان کی ٹوپی گر پڑی حدیث کے وہ راوی جنہوں نے اس روایت کو حضرت فضالہ سے نقل کیا ہے کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ حضرت فضالہ کی مراد کس کی ٹوپی تھی یعنی انہوں نے واضح نہیں کیا کہ حضرت عمر نے حدیث بیان کرتے وقت آنحضرت ﷺ کی طرح سر اٹھا کر دکھلایا تو ان کی ٹوپی گری تھی یا انہوں نے روایت حدیث کے وقت یہ بتلایا نبی کریم ﷺ کی ٹوپی گری تھی بہرکیف حاصل یہ کہ قیامت کے دن یہ شخص اتنا عالی مرتبہ ہوگا کہ لوگ اس کی طرف اچک اچک کر دیکھیں گے پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اور دوسرا وہ شخص جو جیدالایمان مؤمن تھا اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو وہ اپنی بزدلی کی وجہ سے ایسا نظر آنے لگا جیسے اس کے بدن میں خار دار درخت کے کانٹے ہوں (یعنی یہ اس شخص کے خوف کی وجہ سے تھر تھر کانپنے اور دہشت سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجانے کی کیفیت کو کنایۃً بیان کیا گیا ہے) اور پھر ایک تیر آ کر اس کو لگا جس کے چلانے والا نامعلوم تھا اور اس نے اس کو موت کی آغوش میں پہنچا دیا تو یہ شخص پہلے شخص کی بہ نسبت دوسرے درجہ کا ہے اور تیسرا شخص وہ مؤمن تھا جس نے کچھ اچھے اور کچھ برے اعمال کئے تھے اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو اللہ تعالیٰ کو سچ کر دکھایا یہاں تک کہ لڑتے لڑتے مارا گیا تو یہ شخص تیسرے درجہ کا ہے اور چوتھا شخص وہ مسلمان ہے جس نے اپنی جان پر بہت اسراف کیا تھا (یعنی جس نے بہت زیادہ گناہ کئے تھے) اور جب دشمن سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی تو اس نے اللہ کو سچ کر کے دکھایا یہاں تک کہ لڑتے لڑتے مارا گیا تو یہ شخص چوتھے درجے کا ہے۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
اس نے اللہ تعالیٰ کو سچ کر دکھایا کے بارے میں واضح ہو کہ اگر لفظ صدق میں دال پر تشدید نہ ہو تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس شخص نے اپنی شجاعت وبہادری کے ذریعہ اس چیز کو سچا کیا جس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر عائد ہوئی تھی یعنی اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنا اور دشمن کو پیٹھ نہ دکھانا اور اگر دال پر تشدید ہو تو اس صورت میں معنی ہونگے کہ اس شخص نے اپنے عمل اور اپنی شجاعت وبہادری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو راست گو ثابت کیا اور اس کے قول کی تصدیق بایں طور کہ اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور اس راہ کی تمام مشقتوں، تکلیفوں اور مصائب کو برداشت کیا اور حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والے اجر وثواب کا امیدوار ہوا۔ چناچہ حق تعالیٰ نے جو مجاہدین اسلام کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی ہر مصیبت و تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کی طرف سے اجر وثواب کے طلب گار ہوتے ہیں تو جب وہ شخص لڑا اور طلب ثواب کی خاطر صبر و استقامت کی راہ اختیار کی تو گویا اس نے اپنے اس عمل کے ذریعہ حق تعالیٰ کی بات کی تصدیق کی۔ حدیث میں شہداء کی جو قسمیں بیان کی ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ جس مسلمان نے اللہ کی راہ میں شہادت پائی ہے وہ یا تو متقی و پرہیزگار بھی تھا اور شجاع وبہادر بھی اور یہ پہلی قسم ہے یا وہ متقی و پرہیزگار تو تھا لیکن شجاع وبہادر نہیں تھا یہ دوسری قسم ہے اور یا وہ شجاع و بہادر تو تھا مگر متقی و پرہیزگار نہیں تھا پھر اس کی بھی دو قسمیں ہوں گی ایک یہ کہ یا تو وہ ایسا غیر متقی وغیر پرہیزگار تھا کہ اس کے اعمال محفوظ تھے۔ لیکن زندگی میں اس سے نیک عمل بھی صادر ہوئے تھے اور برے عمل بھی سرزد ہوئے تھے لیکن اس کے برے اعمال اتنے زیادہ نہیں تھے کہ اس کو فاسق ومسرف کہا گیا ہو۔ اور یہ حدیث میں بیان کی گئی تیسری قسم ہے اور یا وہ ایسا غیر پرہیزگار تھا کہ اس کی بدعملیاں اس زندگی میں غالب رہی تھیں یعنی اس نے اتنے زیاد برے اعمال کئے تھے کہ فاسق ومسرف مانا گیا تھا اور یہ چوتھی قسم ہے لہٰذا دوسری قسم کے علاوہ اور ساری قسموں میں اللہ کی راہ کی تصدیق حاصل ہوتی ہے نیز اس وضاحت سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کی تصدیق کرنے سے صبر اور طلب ثواب کے وعدے کی تصدیق مراد ہے کیونکہ وہ دوسری قسم میں بھی حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اس دوسری قسم کے شہید کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو سچ کر دکھایا۔
Top