Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (5045 - 5119)
Select Hadith
5045
5046
5047
5048
5049
5050
5051
5052
5053
5054
5055
5056
5057
5058
5059
5060
5061
5062
5063
5064
5065
5066
5067
5068
5069
5070
5071
5072
5073
5074
5075
5076
5077
5078
5079
5080
5081
5082
5083
5084
5085
5086
5087
5088
5089
5090
5091
5092
5093
5094
5095
5096
5097
5098
5099
5100
5101
5102
5103
5104
5105
5106
5107
5108
5109
5110
5111
5112
5113
5114
5115
5116
5117
5118
5119
مشکوٰۃ المصابیح - دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان - حدیث نمبر 3756
وعن عبد الله بن حبشي : أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل أي الأعمال أفضل ؟ قال : طول القيام قيل : فأي الصدقة أفضل ؟ قال : جهد المقل قيل : فأي الهجرة أفضل ؟ قال : من هجر ما حرم الله عليه قيل : فأي الجهاد أفضل ؟ قال : من جاهد المشركين بماله ونفسه . قيل : فأي القتل أشرف ؟ قال : من أهريق دمه وعقر جواده . رواه أبو داود وفي رواية للنسائي : أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل : أي الأعمال أفضل ؟ قال : إيمان لا شك فيه وجهاد لا غلول فيه وحجة مبرورة . قيل : فأي الصلاة أفضل ؟ قال : طول القنوت . ثم اتفقا في الباقي
افضل مجاہد اور افضل شہید
اور حضرت عبداللہ ابن حبشی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ نماز کے اعمال (ارکان ) میں سے کونسا عمل (رکن) افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا طویل قیام کرنا پوچھا گیا کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا مفلس و محتاج اپنے فقر و افلاس کے باوجود محنت ومشقت کر کے نکالے پوچھا گیا کون سی ہجرت بہتر ہے فرمایا اس شخص کی ہجرت میں جو اس چیز کو چھوڑ دے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے یعنی اگرچہ ہجرت کے معنی دارالکفر کو چھوڑ کر دار السلام میں چلے جانا ہیں لیکن حرام چیزوں کو چھوڑ کر حلال چیزوں کو اختیار کرنا بھی ہجرت ہی کہلاتا ہے بلکہ یہی ہجرت بہتر ہے پوچھا گیا کون سا جہاد بہتر ہے فرمایا اس شخص کا جہاد (جو اپنے مال اور اپنی جان کے ذریعہ مشرکین سے جہاد کرے پوچھا گیا جہاد میں کونسا مارا جانا بہتر ہے یعنی کون سا شہید افضل ہے فرمایا اس شخص کا مارا جانا جس کا خون بہایا جائے اور جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹی جائیں یعنی وہ شہید افضل ہے جو خود بھی مارا جائے اور اس کا گھوڑا بھی مارا جائے ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں یوں ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اعمال میں کون سا عمل افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایمان جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو۔ وہ جہاد جس میں حاصل شدہ مال غنیمت کے بارے میں کسی طرح کی خیانت نہ کی گئی ہو اور حج مقبول پھر پوچھا گیا کہ نماز میں کون سی چیز افضل ہے؟ فرمایا قیام کو طویل کرنا اس کے بعد حدیث کے الفاظ ابوداؤد و نسائی نے یکساں نقل کئے ہیں۔
تشریح
جو اپنے جان اور مال کے ذریعہ الخ کا مطلب یہ ہے کہ وہی جہاد افضل ہے جس میں مجاہد نے اپنا مال و اسباب اور اپنا روپیہ پیسہ بھی اپنے اور دوسرے مجاہدین کی ضروریات جہاد میں صرف کیا ہو اور میدان جنگ میں اپنی جان کو بھی پیش کیا ہو یہاں تک کہ زخمی ہوا اور مارا گیا افضل اعمال کے سلسلے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ احادیث میں افضل اعمال کے تعین وبیان کے سلسلے میں مختلف ارشاد منقول ہیں کہیں عمل کو افضل فرمایا گیا ہے اور کہیں کسی عمل کو اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے افضل عمل کے بارے میں کئے جانے والے سوالات کے جوابات سائل کی حیثیت اور اس کے احوال کے مناسب ارشاد فرمائے چناچہ جس سائل میں تکبر ودرشتی کے آثار دیکھے اس کو جواب دیا کہ سب سے بہتر عمل تواضع و نرم خوئی ہے جیسے سلام کو ظاہر کرنا اور نرم کرنا جس سے سائل میں بخل اور خست کے آثار پائے اس سے فرمایا کہ سب سے بہتر عمل سخاوت ہے جیسے محتاجوں اور فقیروں کو کھانا کھلانا وغیرہ اسی طرح جس سائل میں عبادت کے معاملے میں سستی کے آثار پائے اس کو جواب دیا کہ سب سے بہتر عمل تہجد کی نماز ہے غرضیکہ جس سائل کو جس حالت میں پایا اس کا جواب اسی کے مناسب حال دیا، اس اعتبار اعمال کی افضلیت کی مراد گویا درحقیقت سائل کے حق میں ہے کہ مثلا جس سائل میں بخل وخست کی خصلتیں تھیں اس کے حق میں سب سے بہتر عمل سخاوت ہی تھا یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جس موقع پر جس عمل کو سب سے بہتر عمل فرمایا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ عمل افضل اعمال میں سے ایک افضل عمل ہے۔
Top