Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 6052
وعن جابر قال : دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا يوم الطائف فانتجاه فقال الناس : لقد طال نجواه مع ابن عمه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما انتجيته ولكن الله انتجاه . رواه الترمذي
خاص فضیلت
اور حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ غزوہ طائف کے دن رسول اللہ ﷺ نے علی کو بلایا اور اس سے سرگوشی کرنے لگے (یعنی ایسا نظر آرہا تھا جیسے کسی خاص مسئلہ پر ان کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کررہے ہیں اور جب ان باتوں کا سلسلہ کچھ دراز ہوگیا تو (منافقین نے یا صحابہ میں عام) لوگوں نے کہا اپنے چچا کے بیٹے کے ساتھ تو رسول اللہ نے بڑی دیر تک کانا پھوسی کی؟ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سنا تو) فرمایا علی کے ساتھ میں نے سرگوشی نہیں کی بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے۔ (ترمذی)
تشریح
بلکہ اللہ نے سرگوشی کی یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تھا کہ بعض باتیں چپکے چپکے علی تک پہنچا دوں، اس لئے حکم الہٰی کی تعمیل میں میں نے ان کے ساتھ چپکے چپکے باتیں کی ہیں نہ کہ میں ان کے ساتھ وہ کانا پھوسی کررہا تھا جو آداب مجلس کے خلاف ہے اور چونکہ وہ سرگوشی اللہ کے حکم کی تعمیل میں تھی لہٰذا اس صورت میں گویا اللہ نے ان سے سرگوشی کی، مصداق کے اعتبار سے یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسا ایک آیت قرآن کا یہ فقرہ ( وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8۔ الانفال 17) اور آپ ﷺ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ وہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی اس سلسلہ میں یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ حضرت علی ؓ سے آنحضرت ﷺ کی اس سرگوشی کا موضوع دراصل اس غزوہ کی بابت کچھ ایسے نقطے اور راز کی باتیں تھیں جن کا تعلق دین کے ضمن میں آنے والے دنیاوی انتظام و معاملات سے تھا اور جن کا برسر عام تذکرہ حکمت وپالیسی کے خلاف تھا یہ نہیں کہ آپ ﷺ نے منجانب اللہ نازل شدہ دین کی کوئی بات یا دینی امور سے متعلق کچھ احکام سب لوگوں سے چھپا کر حضرت علی کو دئیے خود حضرت علی نے اس طرح کے خیال کے مبنی برحقیقت ہونے کی تردید کی ہے چناچہ بخاری کی روایت میں ہے کہ جب کچھ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی ایسی چیز (یعنی کوئی ایسا خدائی حکم و فرمان) ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے! حضرت علی نے جواب دیا اس ذات کی قسم جس نے زمین سے دانہ اگایا اور ذی روح کو پیدا کیا، میرے پاس اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو قرآن میں موجود ہے ہاں کتاب اللہ کی وہ سمجھ مجھے حاصل ہے جو (حق تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کے تحت) کسی کو حاصل ہوتی ہے اور یہ ایک صحیفہ میرے پاس ہے (جس میں وراثت ودیت وغیرہ کے کچھ احکام لکھے ہوئے ہیں )۔
Top