Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 6022
وعن أنس قال : لما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ببيعة الرضوان كان عثمان رضي الله عنه رسول رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى مكة فبايع الناس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن عثمان في حاجة الله وحاجة رسوله فضرب بإحدى يديه على الأخرى فكانت يد رسول الله صلى الله عليه و سلم لعثمان خيرا من أيديهم لأنفسهم . رواه الترمذي
حضرت عثمان کی ایک فضیلت
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بیت رضوان کا حکم دیا تو اس وقت حضرت عثمان غنی رسول کریم ﷺ کے نمائندہ خصوصی کی حیثیث سے مکہ گئے ہوئے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں سے (جاں نثاری کی) بیعت لی اور (جب تمام مسلمان بیعت کرچکے اور حضرت عثمان وہاں موجود نہیں تھے تو) رسول کریم ﷺ نے فرمایا عثمان! اللہ (کے دین) اور اللہ کے رسول کے کام پر گئے ہوئے ہیں اور (یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا پس رسول کریم ﷺ کا وہ ہاتھ جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا باقی تمام صحابہ کے ان ہاتھوں سے کہیں افضل و بہتر تھا جو ان کے اپنی طرف سے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
بیعت رضوان اس بیعت کو کہتے ہیں جو مکہ سے تقریبا پندرہ سولہ میل کے فاصلہ پر مقام حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر آنحضرت ﷺ نے تمام مسلمانوں سے لی تھی۔ یہ نام قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے جو اسی واقعہ سے متعلق نازل ہوئی تھی۔ (لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ) 48۔ الفتح 18) بالتحقیق اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے خوش ہوا جب کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے درخت (سمر) کے نیچے بیعت کررہے تھے۔ اس واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ ذی قعدہ ٦ ھ میں آنحضرت ﷺ اہل اسلام کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ عمرہ کے لئے مکہ روانہ ہوئے جب حدیبیہ کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ قریش مکہ نے مسلمانوں کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے کی اجازت سے انکار کردیا ہے آنحضرت ﷺ نے حضرت عثمان کو اپنا نمائندہ خصوصی بنا کر قریش مکہ کے پاس روانہ کیا تاکہ وہ ان کو سمجھائیں۔ کہ مسلمانوں کی آمد کا مقصد جنگ وجدال نہیں ہے بلکہ صرف عمرہ کرنا ہے لہٰذا اہل مکہ کو چاہئے کہ مسلمانوں کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے دیں، حضرت عثمان اپنے مشن پر مکہ میں تھے کہ یہاں حدیبیہ میں مشہور ہوگیا کہ حضرت عثمان کو اہل مکہ نے قتل کردیا ہے یہ شہرت سن کر۔ یہ شہرت سن کر مسلمانوں میں سخت اضطراب وہیجان پیدا ہوگیا اور طے ہوا کہ خون عثمان کا بدلہ لیا جائے گا، چناچہ اسی موقع پر آنحضرت ﷺ نے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تمام مسلمانوں سے اس بات کا عہد و اقرار لیا کہ اپنی جانوں کی بازی لگا کر خون عثمان کا بدلہ اہل مکہ سے لیں گے، صحابہ میں ایک ایک آدمی آتا تھا اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر بیعت کرتا تھا، جب سب لوگ بیعت کرچکے تو آنحضرت ﷺ اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ کو حضرت عثمان کے ہاتھ کے قائم مقام کیا اور اس ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مار کر گویا حضرت عثمان کی طرف سے بیعت کی۔ اس طرح حضرت عثمان کو خصوصی فضیلت حاصل ہوئی، کہ اگر وہ خود اس موقعہ پر موجود ہوتے اور اپنا ہاتھ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر مار کر بیعت کرتے جیسا کہ اور لوگوں نے کیا تو ان کو یہ شرف نصیب نہ ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کا دست مبارک ان کے ہاتھ کے قائم مقام ہوا اور اس بناء پر ان کی طبیعت گویا سب لوگوں کی طبیعت سے افضل و اشرف رہی۔ پس اس موقع پر ان کا غیر موجود ہونا ان کے مرتبہ میں نقصان کا باعث نہ ہوا بلکہ فضیلت اور منقبت کا سبب بن گیا بعض حضرات کا کہنا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے جس ہاتھ کو حضرت عثمان کے ہاتھ کے قائم مقام کیا تھا وہ بایاں ہاتھ تھا لیکن زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ وہ دایاں ہاتھ تھا۔
Top