Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 6020
وعن عبد الرحمن بن خباب قال : شهدت النبي صلى الله عليه و سلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان فقال : يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان فقال : علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض فقام عثمان فقال : علي ثلاثمائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينزل عن المنبر وهو يقول : ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان ما عمل بعد هذه . رواه الترمذي
راہ اللہ میں مالی ایثار
اور حضرت عبدالرحمن ابن خباب بیان کرتے ہیں اس وقت میں بھی نبی کریم ﷺ کی مجلس مبارک میں حاضر تھا جب آپ جیش عسرۃ (جنگ عسرۃ) کی مالی امداد کے لئے لوگوں کو جوش دلا رہے تھے۔ حضرت عثمان (آپ ﷺ کی پر جوش تلقین سن کر) کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کی راہ میں کام آنے کے لئے سو اونٹ مع ان کی جھولوں اور پالانوں کے میں اپنے ذمہ لیتا ہوں (یعنی اس جنگ کے لئے میں اللہ کی راہ میں سو اونٹ مع ان کے سازو و سامان کے پیش کرتا ہوں) اس کے بعد (اسی مجلس میں یا کسی اور موقع پر) آنحضرت ﷺ نے پھر لوگوں کو اس جنگ کے لئے امداد ومعاونت کی طرف متوجہ اور راغب کیا تو حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ (پہلے سو اونٹوں کے علاوہ مزید) دو سو اونٹ مع ان کی جھولوں اور پالانوں کے اللہ کی راہ میں اپنے ذمہ لیتا ہوں۔ پس (حضرت عبدالرحمن ابن خباب کہتے ہیں کہ) میں نے دیکھا رسول کریم ﷺ منبر سے اترتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اس عمل کے بعد اب عثمان جو بھی کریں ان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، اس کے بعد اب عثمان جو بھی کریں ان سے ان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ (ترمذی )
تشریح
جیش عسرۃ اس اسلامی لشکر کو کہتے ہیں کہ جو غزوہ تبوک کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ دراصل عسرۃ تنگی اور مالی اور بدحالی کو کہتے ہیں اور وہ زمانہ کہ جنگ تبوک کا مرحلہ درپیش تھا مسلمانوں کے لئے سخت عسرت وتنگی کا تھا، ایک طرف تو خشک سالی اور قحط نے نہ صرف یہ کہ غذا اور پانی کی کمیابی کے سبب انسانوں کو درخت کے پتے کھانے اور منہ کی خشکی دور کرنے کے لئے اونٹوں کی اوجھڑی نچوڑنے پر مجبور کر رکھا تھا، دوسری طرف مسلمانوں کی کمی اور ان کے مقابلہ پر دشمنوں کی کثرت، محاذ جنگ کی نہایت دوری سامان جنگ اور زاد راہ کی کمی، شدید گرمی اور دھوپ اور بےسروسامانی کی پریشانی نے نہایت سخت صورت حال پیدا کر رکھی تھی۔ اس لئے جنگ تبوک کے لشکر کا نام جیش عسرۃ (پریشان حال لشکر) ہوگیا۔ اس روایت کے مطابق حضرت عثمان نے چھ سو اونٹ اس لشکر کے لئے اللہ کی راہ میں پیش کئے، پہلی مرتبہ سو اونٹ پیش کئے، پھر دو سو اونٹ اور پھر تین سو اونٹ، اس طرح کل ملا کر چھ سو اونٹ کی پیش کش ان کی طرف سے ہوئی۔ اور بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت عثمان نے غزوہ تبوک کے ساڑھے نوسو اونٹ اپنی طرف سے پیش کئے تھے۔ اور ہزار کا عدد پورا کرنے کے لئے پچاس گھوڑے بھی دئیے تھے۔ حضرت عثمان کے اس زبردست مالی ایثار اور ان کے حوصلہ پر آنحضرت ﷺ نے جو الفاظ ارشاد فرمائے اور اہمیت ظاہر کرنے کے لئے بار بار ارشاد فرمائے ان کا حاصل یہ تھا کہ عثمان کا یہ عمل نہ صرف یہ کہ ان کے گزشتہ گنا ہوں اور لغزشوں کا کفارہ بن گیا ہے بلکہ آئندہ بھی بالفرض ان سے کوئی خطا صادر ہو تو وہ اس عمل کے سبب معاف ہوجائے گی پس ان الفاظ میں گویا اس بشارت کی طرف اشارہ تھا کہ عثمان کو خاتمہ بخیر کی سعادت حاصل ہوگی۔ اور ایک شارح نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ان الفاظ کا مطلب یہ تھا کہ اس عمل کے بعد عثمان اب اگر از قسم نفل (نہ کہ ازقسم فرض) کوئی عبادت اور کوئی نیک کام نہ کریں تو ان کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ ان کا یہ عظیم عمل تمام نفل عبادتوں اور نیکیوں کے واسطے کافی ہوگیا ہے۔
Top