Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5810
وعن جابر قال عطش الناس يوم الحديبية ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين يديه ركوة فتوضأ منها ثم أقبل الناس نحوه قالوا : ليس عندنا ماء نتوضأ به ونشرب إلا ما في ركوتك فوضع النبي صلى الله عليه و سلم يده في الركوة فجعل الماء يفور من بين أصابعه كأمثال العيون قال فشربنا وتوضأنا قيل لجابر كم كنتم قال لو كنا مائة ألف لكفانا كنا خمس عشرة مائة . متفق عليه
انگلیوں سے پانی کا معجزہ
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ مقام حدیبیہ میں ( ایک دن ایسا ہوا کہ پانی کی شدید قلت کے سبب) لوگوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت آنحضرت ﷺ کے پاس ایک لوٹا تھا جس سے آپ ﷺ نے وضو فرمایا تھا ( اور اس میں بہت تھوڑا سا پانی بچا) لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہمارے لشکر میں پینے اور وضو کرنے کے لئے بالکل پانی نہیں ہے، بس وہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ ﷺ کے لوٹے میں بچ گیا ہے ( اور ظاہر ہے) کہ اس سے سب لوگوں کا کام نہیں چل سکتا) آپ ﷺ نے ( یہ سن کر) اپنا دست مبارک اس لوٹے ( کے اندر یا اس کے منہ) میں ڈال دیا اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے اس طرح پانی ابلنے لگا جیسے چشمے جاری ہوگئے ہوں۔ حضرت جابر کا بیان ہے ہم سب لوگوں نے خو پانی پیا اور وضو کیا۔ حضرت جابر سے پوچھا گیا کہ اس موقع پر تم سب کتنے آدمی تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ ( آدمی) ہوتے تب بھی وہ پانی کافی ہوتا، ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہم سب لوگوں نے خوب پانی پیا کتنے قابل رشک تھے وہ لوگ جن کو اس مقدس پانی کے پینے کی سعادت نصیب ہوئی اور اس کے طفیل میں ظاہر و باطن کی کیسی پاکیزگی ان کو حاصل ہوئی، کیونکہ زمین و آسمان میں اس پانی سے زیادہ افضل اور کوئی پانی نہیں تھا۔ اگر ہم ایک لاکھ ہوتے حضرت جابر کا یہ جواب ایک لطیف طنز تھا، کہ بھلا معجزہ کے معاملہ میں کمیت کے بارے میں پوچھنا بھی کوئی بات ہوتی! تاہم انہوں نے بعد میں واضح جواب دیا کہ اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی نیز انہوں نے ایک پانچ سو کہنے کے بجائے پندرہ سو اس نکتہ کے پیش نظر کہا کہ کثرت کا جو شدید تاثر پندرہ سو کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے وہ ایک ہزار پانچ سو کے الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا علاوہ ازیں بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مقام حدیبیہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے وہ الک الک جماعتوں کی صورت میں تقسیم تھے اور ہر جماعت ایک سو افراد پر مشتمل تھی۔ لہٰذا حضرت جابر نے پندرہ سو کے ذریعہ پندرہ جماعتوں کی طرف اشارہ کیا۔
Top