Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5807
انتباہ
بلاشبہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جو محاذ آرائی ہوئی اس میں حضرت علی حق پر تھے اور جو لوگ بھی ان کی اطاعت سے باہر ہو جر جنگ کے لئے کمر بستہ ہو انہوں نے خراج کیا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ لوگ اس حدیث کو دیکھ کر اور اس کے محمول و مصداق کو جان کر حضرت معاویہ کے حق میں زبان لعن وطعن دراز کریں اور ان کی ذات کو ہدف ملامت کریں۔ راسخ العقیدہ اور صحیح الخیال مسلمان کے لئے صرف یہی نجات کی رہا ہے کہ اس نازک مسئلہ میں اپنی زبان کو روکے اور ان دونوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دے، حضرت معاویہ ایک جلیل القدر صحالی تھے اور دربار رسالت میں بڑی عزت و اہمیت رکھتے تھے، ان کی شان میں کوئی بھی ناز یبابات زبان سے نکالنا صحابی کی شان میں گستاخی کرنا ہے اور صحابی کی شان میں گستاخی کرنا اللہ کا عذاب مول لینا ہے، آنحضرت ﷺ نے اپنے تمام صحابہ کے بارے میں ارشاد فرمایا لوگو! میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان کو کبھی ہدف ملامت نہ بنانا ( یاد رکھوں! ) جس شخص نے میرے صحابہ کو دوست رکھا اس نے مجھ سے محبت رکھنے کے سبب ان کو دوست رکھا اور جس شخص نے میرے صحابہ کو مبغوض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھنے کے سبب ان کو مبغوض رکھا اور جس شخص نے میرے صحابہ کو ( اپنے قول وعمل سے) ایذاء پہنچائی اس نے درحقیقت مجھ کو ایذاء پہنچائی اور جس شخص نے مجھ کو ایذاپہنچائی اس نے ( گویا) اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی اور جس شخص نے اللہ کو ایذاء پہنچائی اس کو جلد ہی اللہ تعالیٰ عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس ارشاد گرامی کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور اس کتاب میں بھی آگے فضائل صحابہ کے باب میں ایسی بہت سی احادیث آئیں گی، نیز اس طرح کی بھی بہت حدیثیں منقول ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سکوت ہی میں بھلائی ہے، ان میں سے یہی ایک حدیث سبق حاصل کرنے کے لئے بہت کافی ہے کہ من سکت سلم ومن سلم نجا ( جس نے سکوت اختیار کیا سلامت رہا اور جو سلامت رہا نجات پا گیا )۔ اس کے علاوہ بعض حدیثیں خود حضرت معاویہ کی فضیلت میں منقول ہیں، جیسے پیچھے باب علامت النبوۃ میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت میرے سامنے پیش کی گئی جن کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے اور سمندر کی پشت پر اس طرح سفر کرتے ہوئے دکھا یا گیا جیسے وہ بادشاہوں کی مانند تخت پر بیٹھے ہوں۔۔ الخ۔۔ عع اس حدیث کا مصداق یہی حضرت معاویہ اور ان کے لشکر والے تھے جنہوں نے سمندر پار کر کے کفار کے ساتھ جہاد کیا۔ غرض یہ کہ حضرت معاویہ کی شان میں گستاخی کرنے ان سے بغض ونفرت رکھنے اور ان کو برابھلا کہنے سے پوری طرح اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ یہ رفض وشیعت کے عقائد میں سے ہے اللہ تعالیٰ اس قسم کے برے عقیدہ سے محفوظ رکھے بعض سنی بھی جہالت ونادانی کے سبب اس فتنہ کا شکار ہوجاتے ہیں اور صحابی کے حق میں نہایت نازیبا الفاظ و خیال کا اظہار کرتے ہیں! ملا علی قاری نے شرح، فقہ اکبر میں صاف طور پر ( حضرت علی اور حضرت معاویہ سے متعلق) اس معاملہ کو خطائے اجتہادی پر محمول کیا ہے۔ پس اہل سنت کو تو خاص طور پر اس سلسلہ میں احتیاط کا دامن پکڑنا چاہئے! اور اپنے دل کو کسی بھی صحابی کے بغض سے پاک رکھنا چاہئے خواہ ان کا تعلق اہل بیت نبوی سے ہو، یا عام صحابہ کی جماعت سم، نیز آنحضرت ﷺ کی اس ارشاد پر نظر رکھتے ہوئے اپنی زبان پر مہر سکوت لگا لینی چاہئے کہ لیحجرک عن الناس ما تعلم من نفسک اور جب عام لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ولا تذکر الناس الا بخیر ( لوگوں کا ذکر کرو تو اچھائی کے ساتھ کرو) تو صحابہ تو بدرجہ اولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے تذکرے میں ایسا کوئی لفظ نہ آئے جس سے ان کی شان اور ان کی حیثیت پر حرف آتا ہو اور ایک بات یہ بھی یادر کھنی چاہئے کہ جن مقدس، ہستیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ونزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقبلین ( اور ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم سب دور کریں گے اور سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے، تو کیا یہ بدبختی نہیں ہے کہ ہم ان ہستیوں کے بارے میں طعن وتشنیع کے ذریعہ اپنی زبانیں گندی کریں۔
Top