Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5155
وعن زيد بن أسلم قال استسقى يوما عمر فجيء بماء قد شيب بعسل فقال إنه لطيب لكني أسمع الله عز وجل نعى على قوم شهواتهم فقال ( أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها ) فأخاف أن تكون حسناتنا عجلت لنا فلم يشربه . رواه رزين
حضرت عمر ؓ کا کمال تقویٰ
حضرت زید بن اسلم تابعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے پینے کے لئے پانی مانگا تو ان کی خدمت میں جو پانی پیش کیا گیا اس میں شہد ملا ہوا تھا، حضرت عمر ؓ نے اس پانی کو دیکھ کر اور یہ جان کر کہ اس میں شہد ملا ہوا ہے) فرمایا یقینا یہ پانی پاک و حلال اور نہایت خوشگوار ہے لیکن میں اس کو نہیں پیوں گا، کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں (قرآن سے سنتا اور جانتا ہوں کہ اس نے ایک قوم کو خواہشات نفس کی اتباع کا ملزم گردانا اور بطور سرزنش و تنبیہ فرمایا۔ کہ تم نے اس دنیاوی زندگی میں اپنی لذتوں اور نعمتوں کو پا لیا اور ان سے پورا پورا فائدہ حاصل کرلیا (اب آخرت میں تمہارے لئے کیا رہ گیا ہے لہٰذا میں ڈرتا ہے کہ کہیں ہماری نیکیاں بھی ایسی نہ ہوں جن کا اجر وثواب (دنیاوی نعمتوں اور لذتوں کی صورت میں) جلد ہی اتنی دنیا میں ہمیں دے دیا جائے اور پھر آخرت میں محرومی کا منہ دیکھنا پڑے) چناچہ حضرت عمر ؓ نے شہد ملا ہوا وہ پانی نہیں پیا۔ (رزین)
تشریح
حضرت عمر ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ شہد ملا ہوا یہ پانی نہایت لذت آمیز اور بہت بڑی دنیاوی نعمت ہے جو نفس کو بھی نہایت مطلوب ہے، اگر میں اس پانی کو پیتا ہوں تو گویا بہت بڑی نعمت سے فائدہ اٹھاتا ہوں اور لذت کام ودہن سے نفس کو خوش کرتا ہوں تو اس صورت میں مجھے خوف ہے کہیں یہ لذت ونعمت ہمارے اعمال صالحہ کا وہ اجر وثواب نہ قرار پائے جو ہمیں بس دنیا ہی میں چکا دیا جائے اور آخرت کے لئے کچھ نہ رہ جائے جیسا کہ کافروں کے بارے میں ہے کہ ان کے نیک عمل کا بدلہ، دنیاوی نعمتوں اور لذتوں کی صورت میں ان کو اس دنیا میں مل جاتا ہے اور آخرت میں ان کو کچھ نصیب نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ حضرت عمر ؓ نے اللہ تعالیٰ کا جو ارشاد نقل فرمایا ہے یعنی آیت (اذھبتم طیباتکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھا)۔ یہ ایک آیت کا ٹکڑا ہے اس طرح ایک آیت یہ بھی ہے (مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّ لْنَا لَه فِيْهَا مَا نَشَا ءُ ) 17۔ الاسراء 18) یعنی جو شخص دنیا کے نفع کی نیت رکھے گا ہم ایسے شخص کو دنیا میں جتنا چاہیں گے جس کے واسطے چاہیں گے جلدی اسی دنیا میں دے دیں گے۔ یہ دونوں آیتیں اگرچہ کفار کے حق میں ہیں لیکن اصل اعتبار تو الفاظ کی عمومیت کا ہے جس سے ہر شخص سبق حاصل کرسکتا ہے نہ کہ خصوص سبب کا اعتبار ہونا چاہئے۔
Top