Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5104
وعن جابر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسم إن أخوف ما أتخوف على أمتي الهوى وطول الأمل فأما الهوى فيصد عن الحق وأما طول الأمل فينسي الآخرة وهذه الدنيا مرتحلة ذاهبة وهذه الآخرة مرتحلة قادمة ولكل واحدة منهما بنون فإن استطعتم أن لا تكونوا بني الدنيا فافعلوا فإنكم اليوم في دار العمل ولا حساب وأنتم غدا في دار الآخرة ولا عمل . رواه البيهقي في شعب الإيمان
دو خوفناک چیزوں کا ذکر
حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنی امت کے بارے میں جن دو چیزوں سے بہت زیادہ ڈرتا ہوں، ان میں سے ایک تو خواہش نفس ہے، دوسرے (تاخیر عمل اور نیکیوں سے غفلت کے ذریعہ) درازی عمر کی آرزو ہے، پس نفس کی خواہش (جو حق کے مخالف اور باطل کے موافق ہوتی ہے) حق کو قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے سے روکتی ہے اور جہا تک درازی عمر کی آرزو کا تعلق ہے تو وہ آخرت کو بھلا دیتی ہے اور (یاد رکھو) یہ دنیا کوچ کر کے چلی جانے والی ہے اور آخرت کوچ کر کے آنے والی ہے (یعنی یہ دنیا لمحہ بہ لمحہ گزرتی چلی جا رہی ہے اور آخرت لمحہ بہ لمحہ تمہاری طرف چلی آرہی ہے) نیز ان دونوں (یعنی دنیا اور آخرت) میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں (یعنی کچھ لوگ تو وہ ہیں جو دنیا کے تابع و محکوم اور اس کی دوستی و چاہت رکھنے والے ہیں گویا وہ دنیا کے بیٹے ہیں اور کچھ لوگ وہی جو آخرت کے تابع و محکوم اور اس کے دوست و طلب گار ہیں گویا وہ آخرت کے بیٹے ہیں) لہٰذا اگر تم سے یہ ہو سکے کہ تم دنیا کے بیٹے نہ بنو تو ایسا ضرور کرو کہ (یعنی ایسے کام کرو اور ایسے راستے پر چلو کہ دنیا کا داؤ تم پر نہ چل سکے اور تم اس کی اتباع و فرمانبرداری اور اس کی محبت و چاہت کے دائرے سے نکل کر آخرت کے تابع و محکوم اور اس کے طلبگار بن جاؤ) کیونکہ تم آج دنیا میں ہو جو دارالعمل (عمل کرنے کی جگہ) ہے جہاں عمل کا حساب نہیں لیا جاتا (پس اس موقع کو غنیمت جانو اور اجل آنے سے پہلے عمل کرلو) جب کہ تم کل آخرت کے گھر میں جاؤ گے تو وہاں عمل کرنے کا کوئی موقع نہیں ملے گا (بلکہ وہاں صرف محاسبہ ہوگا)۔ (بیہقی)
تشریح
دنیا کوچ کر کے چلی جانے والی ہے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا اپنے تمام سر و سامان کے ساتھ اس طرح فنا کی طرف جا رہی ہے کہ اس میں رہنے والوں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا جس طرح کشتی کے اندر بیٹھا ہوا شخص کشتی کو چلتے ہوئے محسوس نہیں کرتا۔ حدیث کا یہ جملہ اور مابعد کا جملہ دراصل دنیا کے نہایت جلد گزرنے اور فناء ہوجانے کے مفہوم کو واضح کرتا ہے کیونکہ اگر آخرت اپنی جگہ قائم ہوتی اور صرف دنیا اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے اس کی طرف چلتی تو بھی یہ پوری گزر ہی جاتی اور اپنی عمر تمام کرلیتی اگرچہ اس کے سفر کو کچھ وقفہ اور مل جاتا مگر جب صورت حال یہ ہے کہ ادھر سے تو آخرت چلی آرہی ہے اور ادھر سے دنیا اس کی طرف کو چلی جا رہی ہے تو گویا وہ نقطہ کہ جہاں دنیا کا اختتام اور آخرت کی ابتدا ہونے والی ہے درمیان راہ میں ہی واقع ہوجائے گا اور مسافت بہت جلد ختم ہوجائے گی۔ جہاں عمل کا حساب نہیں لیا جاتا یہ بات ظاہر کے اعتبار سے اور فاسق و فاجر کی نسبت سے فرمائی گئی ہے ورنہ تو ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ حاسبوا انفسکم قبل ان تحاسبوا۔ اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے۔
Top