Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5047
وعن المستورد بن شداد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : والله ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم أصبعه في اليم فلينظر بم يرجع . رواه مسلم
دنیا اور آخرت کی مثال
حضرت مستورد بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ کی قسم! آخرت (کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں) کے مقابلے میں دنیا ( کے زمانہ اور اس کی نعمتوں) کی مثال ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کیا چیز لے کر واپس آئی ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبو کر باہر نکالے تو وہ دیکھے گا کہ اس کی انگلی سمندر میں سے محض تری یا صرف ایک آدھ قطرہ پانی کا لے کر واپس آئی ہے، پس سمجھنا چاہئے کہ آخرت کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کا زمانہ اور دنیا کی تمام نعمتیں اسی قدر قلیل وکمتر ہیں جس قدر کہ سمندر کے مقابلہ میں اس کی انگلی کو لگا ہوا پانی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمثیل بھی محض لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ متناہی کو غیر متناہی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی، پانی کا وہ ایک قطرہ جو دریا سے باہر آیا ہے اپنی کمتری و بےوقعتی کے باوجود سمندر سے کچھ نہ کچھ نسبت ضرور رکھتا ہے مگر دنیا، آخرت سے اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتی۔ ملا علی قاری (رح) لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ نہ تو نہایت جلد فنا ہوجانے والی دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں پر مغرور ہو اور نہ اس کی سختیوں اور پریشانیوں پر روئے پیٹے اور نہ شکوہ و شکایت کرے بلکہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق یہی کہے کہ اللہم لا عیش الا عیش الاخرۃ، اے اللہ! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے نیز اس حقیقت کو ہر لمحہ مدنظر رکھے کہ یہ دنیا، مزرعۃ الاخرۃ (آخرت کی کھیتی ہے) اور یہاں کی زندگانی بس ایک ساعت کی ہے لہٰذا اس ایک ساعت کو گنوانے کی بجائے طلب الٰہی میں مصروف رکھنا ہی سب سے بڑی دانشوری ہے۔
Top