Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5031
وعن العرس بن عميرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا عملت الخطيئة في الأرض من شهدها فكرهها كان كمن غاب عنها ومن غاب عنها فرضيها كان كمن شهدها . رواه أبو داود
گناہ کو گناہ سمجھو
حضرت عرس بن عمیرہ ؓ نبی کریم ﷺ کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب زمین پر گناہ کئے جائیں تو جو شخص ان گناہوں کر برا جانے وہ اس شخص کی مانند ہے جو وہاں موجود نہ ہو (اور ان گناہوں کے وقوع کو نہ جانتا ہو) اور جو شخص وہاں موجود نہ ہو لیکن وہ ان گناہوں کے وقوع کو جانتا ہو) اور وہ ان گناہوں کو برا نہ جانے تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جو وہاں موجود ہو (اور ان گناہوں کو برا خیال نہ کرے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ گناہ کو ہر حال میں گناہ سمجھو اور اس کو برا خیال کرو۔ اگر تمہاری آنکھوں کے سامنے کسی گناہ کا ارتکاب ہو رہا ہو تو اول اس کو ہاتھ اور زبان کے ذریعہ مٹانے اور ختم کرنے کی کوشش کرو اور اگر ان دونوں میں سے کسی کی بھی طاقت وقدرت نہیں رکھتے ہو تو پھر جو آخری درجہ ہے اس کو اختیار کرو یعنی اس گناہ کو برا خیال کرو اور دل میں اس کے خلاف نفرت کا جذبہ رکھو۔ اس صورت میں تمہارا شمار گویا ان لوگوں کے زمرہ میں ہوگا جو وہاں موجود ہی نہ ہو اور جن کی آنکھوں کے سامنے اس گناہ کا ارتکاب نہ ہو رہا ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ حقیقی موجودگی وغیر موجودگی کا تعلق دل سے ہے نہ کہ جسم و بدن سے، چناچہ جس شخص نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے گناہ کو برا خیال کیا اور دل میں بھی اس کے خلاف نفرت رکھی تو گویا حقیقت میں وہ اس جگہ موجود نہیں جہاں وہ گناہ کیا جارہا ہے، اگرچہ ظاہری طور پر وہاں موجود ہے اور اگر کسی شخص نے گناہ کو گناہ نہیں سمجھا یعنی اس گناہ کو اور اس گناہ کے مرتکب کو دل میں برا خیال نہیں کیا تو گویا وہ حقیقت میں اس جگہ موجود ہے جہاں وہ گناہ کیا جارہا ہے اگرچہ ظاہری طور پر وہاں موجود نہیں ہے۔
Top