Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 5025
وعن أبي هريرة أنه سمع رجلا يقول إن الظالم لا يضر إلا نفسه فقال أبو هريرة بلى والله حتى الحبارى لتموت في وكرها هزلا لظلم الظالم . روى البيهقي الأحاديث الأربعة في شعب الإيمان
ظلم کی نحوست
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ظالم حقیقت میں اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے (دوسروں تک اس کے ظلم کے اثرات نہیں پہنچتے) تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ بیشک ظالم اپنی ظالمانہ حرکتوں سے اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے، لیکن اس کی نحوست دوسروں کو بھی متاثر کرتی ہے یہاں تک کہ حباریٰ اپنے گھونسلے میں طالم کے ظلم کے سبب دبلا ہو کر مرجاتا ہے چاروں کو بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
حباریٰ ایک پرندہ کا نام ہے جس کو اردو میں سرخاب کہتے ہیں، بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پرندہ اپنے دانہ پانی کی تلاش میں بہت دور دور تک جاتا ہے، عام طور پر اس کا گھونسلہ ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں سے پانی کی جگہ کئی کئی دن کی راہ کے فاصلہ پر ہوتی ہے اور وہ اپنے گھونسلہ سے اتنے طویل فاصلہ پر جاتا ہے اور پانی پی کر اپنے گھونسلہ میں آتا ہے ایک محقق نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ دیکھا گیا کہ بصرہ میں سرخاب کے پیٹ میں حبہ الخضرار نامی جڑی برآمد ہوئی جب کہ وہ جڑی صرف ایک علاقہ میں پائی جاتی ہے اور وہ علاقہ بصرہ سے کئی دن کی راہ کے فاصلہ پر واقع ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ ظالم کے اثرات دوسروں پر اس حد تک مرتب ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی نحوست سے بارش برسانا بند کردیتا ہے اور پانی کی قلت سے کھانے پینے کی چیزیں نایاب ہوجاتا ہیں چناچہ انسان وحیوان کھانا پانی نہ ملنے کی وجہ سے مرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ سرخاب جیسا جانور بھی اپنے گھونسلے ہی میں سوکھ سوکھ کر مرجاتا ہے جو اپنے چارے وپانی کے حصول میں دور دراز کے علاقوں تک کی رسائی رکھتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرخاب کا اپنے گھوسلے میں سوکھ سوکھ کر مرجانا قحط اور خشک سالی کی علامت ہے اور اس کے ظلم کی نحوست کے اثرات کو بیان کرنے کے لئے خاص طور پر سرخاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس شخص نے یہ کہا تھا کہ ظالم حقیقت میں اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے اس کی مراد یہ تھی کہ ظالم اگرچہ ظاہر میں مظلوم کو نقصان پہنچتا ہے مگر حقیقت میں اس نقصان کا وہ خود ہی شکار ہوتا ہے کیونکہ مظلوم کا نقصان تو ایسا نقصان ہے جس پر اس کو حق تعالیٰ کی طرف سے صبر کا پھل ملے گا اور ظالم سے اس ظلم کا بدلہ لے لے گا جب کہ ظالم کے حصہ میں آخر الامر خسران و تباہی کے علاوہ کچھ نہیں آئے گا چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس وقت پیش آنے والے کسی قرینہ کی بناء پر اس بات کو عمومیت کے ساتھ بیان کیا کہ ظالم اپنے ظلم کے نتیجہ میں خود تو نقصان و خسران میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اس کے ظلم کی نحوست کسی نہ کسی صورت میں دوسروں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے جو بات بیان فرمائی ہے وہ خود ان کا اپنا قول نہیں ہے بلکہ یہ مضمون کسی حدیث کا ہے جس کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہوگا یا یہ کہ ایک حدیث میں چونکہ یہ منقول ہے کہ بارش کا نہ ہونا ظلم کی نحوست کا اثر ہوتا ہے ظاہر ہے کہ بارش نہ ہونے سے حیوانات کو ضرور نقصان پہنچتا ہے اس لئے انہوں نے اس حدیث سے استنباط کرتے ہوئے مذکورہ بات فرمائی۔
Top