Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 3001
عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وأرضها على أن يعتملوها من أموالهم ولرسول الله صلى الله عليه و سلم شطر ثمرها . رواه
خیبر کی زمین کا بند وبست
حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کی کھجوروں کے درخت اور وہاں کی زمین اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے حوالہ کردی کہ وہ اس میں اپنی جان اور اپنا مال لگائیں اور اس کا آدھا پھل رسول کریم ﷺ کے لئے ہوگا ( مسلم) اور بخاری کی روایت میں یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے خیبر کو یعنی وہاں کی زمین اور درخت کو اس شرط پر خیبر کے یہودیوں کے حوالہ کردیا تھا کہ وہ اس میں محنت کریں اور کاشت کاری کریں اور پھر اس کی پیداوار کا آدھا حصہ یہودیوں کا حق ہوگا اور آدھا حصہ آنحضرت ﷺ لے لیں گے۔
تشریح
خیبر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ سے تقریبا ٦٠ میل شمالی میں ایک حرے کے درمیان واقع ہے پہلے یہ ایک مشہور مقام رہ چکا ہے جہاں یہودیوں کی بود باش تھی لیکن اب یہ بستی چند گاؤں کا مجموعہ ہے چونکہ اس کی آب وہوا اچھی نہیں ہے اس لئے یہاں لوگ اقامت اختیار کرتے ہوئے گھبراتے ہیں اس کے علاقہ میں کھجور وغیرہ کی کاشت ہوتی ہے۔ بہرحال یہ حدیث علاوہ امام اعظم ابوحنیفہ کے تمام علماء کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ مساقات ومزارعت جائز ہے حضرت امام اعظم یہ فرماتے ہیں کہ خیبر کی زمین اور درختوں کو وہاں کے یہودیوں کو دینا مساقات ومزارعت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ کیونکہ خیبر کی زمین اور وہاں کے درخت آنحضرت ﷺ کی ملکیت میں نہیں تھے کہ آپ ﷺ بطور مساقات ومزارعت وہاں کے یہودیوں کو دیتے بلکہ وہ زمین بھی یہودیوں ہی کی ملکیت تھی اور وہاں کے درختوں کے مالک بھی یہودی ہی تھے۔ آپ ﷺ نے ان کی املاک کو انہیں کے حوالے کیا اور اس کی پیداوار کا نصف بطور خراج اپنے لئے مقرر فرمایا چناچہ خراج کی دو قسمیں ہیں (١) خراج مؤظف (٢) خراج مقاسمت۔ خراج مؤظف کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اسلامی مملکت کی طرف سے جن لوگوں پر خراج عائد کیا جاتا ہے ان سے سربراہ مملکت ہر سال کچھ مال لینا مقرر کرلیتا ہے جیسا کہ اہل نجران سے ہر سال بارہ سو حلے یعنی جوڑے لئے جاتے تھے۔ خراج مقاسمت کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جن لوگوں پر خراج عائد کیا جاتا ہے ان کی زمین کی پیداوار ان لوگوں اور اسلامی حکومت کی درمیان کسی مقررہ مقدار میں تقسیم ہوتی ہے جیسا کہ اہل خیبر کے ساتھ ہوا کہ ان کی زمین اور درختوں کی نصف پیداوار آنحضرت ﷺ لے لیتے تھے
Top