Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1499 - 1573)
Select Hadith
1499
1500
1501
1502
1503
1504
1505
1506
1507
1508
1509
1510
1511
1512
1513
1514
1515
1516
1517
1518
1519
1520
1521
1522
1523
1524
1525
1526
1527
1528
1529
1530
1531
1532
1533
1534
1535
1536
1537
1538
1539
1540
1541
1542
1543
1544
1545
1546
1547
1548
1549
1550
1551
1552
1553
1554
1555
1556
1557
1558
1559
1560
1561
1562
1563
1564
1565
1566
1567
1568
1569
1570
1571
1572
1573
مشکوٰۃ المصابیح - جنازوں کا بیان - حدیث نمبر 1281
نماز ضحی کا بیان
ضحٰی مشتق ہے الضحو والضحوۃ سے جس کے معنی ہیں آفتاب کا بلند ہونا، دن کا چڑھنا، چاشت کا وقت، چناچہ آفتاب بلند ہونے کے بعد پڑھی جانے والی نماز کو نماز ضحی کہتے ہیں۔ ضحی کی دو نمازیں ہیں نماز اشراق اور نماز چاشت ضحی کی دو نمازیں ہیں ایک نماز کو اشراق کہتے ہیں اور دوسری نماز نماز چاشت کہلاتی ہے یعنی بقدر ایک یا دو نیزے تک آفتاب بلند ہونے کے بعد، جب کہ وقت مکروہ ختم ہوجاتا ہے اور نماز پڑھنے کا وقت شروع ہوجاتا ہے تو پہلے پہر تک ضحی کی جو نماز پر ھی جاتی ہے اسے اصطلاح میں نماز اشراق کہتے ہیں اور جب آفتاب خوب بلند ہوجائے، فضاء میں اچھی طرح گرمی پیدا ہوجائے اور دھوپ اتنی زیادہ پھیل جائے کہ دوسرا پہر شروع ہوجائے تو زوال سے پہلے پہلے ضحی کی نماز پڑھی جاتی ہے وہ اصطلاح میں نماز چاشت کہلاتی ہے عربی میں ان دونوں کو ضحوۃ صغری اور ضحوۃ کبری کہتے ہیں۔ نسائی نے ایک روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آفتاب مشرق کی جانب ایسا ہوتا ہے جیسا کہ عصر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اور جب آفتاب مشرق کی جانب ایسا ہوتا جیسا کہ ظہر کے وقت مغرب کی جانب ہوتا ہے تو آپ ﷺ چار رکعت نماز پڑھتے۔ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ ضحی کی دو نمازیں ہیں۔ نما زاشراق کی کم از کم دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ چھ رکعتیں۔ اسی طرح نماز چاشت کی کم سے کم دو رکعتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں لیکن علماء کے نزدیک مختار چار رکعتیں ہی پڑھنا ہے کیونکہ جن احادیث سے رسول اللہ ﷺ کا چار رکعتیں پڑھنا ثابت ہے وہ احادیث زیادہ صحیح ہیں پھر یہ کہ زیادہ احادیث و آثار چار رکعتوں ہی کے بارے میں منقول ہیںَ نماز ضحی کی بہت زیادہ فضیلت منقول ہے یہ نماز اکثر علماء کے قول کے مطابق مستحب ہے یہ نماز اس نیت سے پڑھی جاتی ہے۔ نَوَیْتُ اَنْ اُصَلِّیَ اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ صَلٰوۃِ الضُّحٰی سُنَّۃَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلیْہِ وَسَلَّمَ۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ چار رکعت نماز ضحی جو رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے پڑھوں۔ شیٰخ ولی الدین ابن عراقی فرماتے ہیں کہ صلوٰۃ ضحی کے بارے میں صحیح اور مشہور حدیثیں بہت زیادہ منقول ہیں یہاں تک کہ محمد ابن جریر طبرانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں جو احادیث منقول ہیں وہ درجہ تو اتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں۔ قاضی ابوبکر صدیق فرماتے ہیں کہ یہ نماز پچھلے انبیاء اور رسولوں کی نماز ہے۔ علامہ سیوطی نے دیلمی سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نماز ضحی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی اکثر نماز ہے۔ ابن بخار نے حضرت ثوبان کی یہ حدیث نقل کی ہے کہ نماز ضحی وہ نماز ہے جسے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ و آدم (علیہم السلام) ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
Top