Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 6071
وعنه قال : كنت شاكيا فمر بي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أقول : اللهم إن كان أجلي قد حضر فأرحني وإن كان متأخرا فارفعني وإن كان بلاء فصبرني . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف قلت ؟ فأعاد عليه ما قال فضربه برجله وقال : اللهم عافه - أو اشفه - شك الراوي قال : فما اشتكيت وجعي بعد . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح
وہ دعا جو مستجاب ہوئی
اور حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں سخت بیمار ہوگیا اور (حسن اتفاق سے) رسول کریم ﷺ میرے پاس سے گزر رہے تھے جب میں (مرض کی شدت سے بےتاب ہو کر بآوازبلند) یہ دعا مانگ رہا تھا الہٰی اگر میری موت کا وقت آپہنچا تو مجھ کو (موت دے کر مرض کی اذیت سے نجات اور ابدی) سکون عطاء فرما اور اگر ابھی وقت نہیں آیا ہے تو (صحت بحال کر کے مجھ کو راحت و کشادگی (یعنی صحت و تندرستی کی خوشی) عطا فرما اور اگر یہ بیماری امتحان و آزمائش ہے تو مجھے صبر و آزمائش کو برداشت کی قوت دے (تاکہ میں بےتابی وبے قراری کا اظہار نہ کروں) رسول کریم ﷺ نے (مجھے یوں دعا مانگتے سنا تو) فرمایا کہ تم کیا دعا مانگ رہے تھے؟ میں نے دعا کے الفاظ آپ ﷺ کے سامنے دوہرادئیے۔ آپ ﷺ نے (دعا کے الفاظ سننے کے بعد) اپنے پاؤں سے علی کو ٹھوکا دیا اور پھر یوں دعا فرمائی الہٰی! اس (علی) کو عافیت عطا فرما یا یہ فرمایا کہ اس کو شفا بخش یہ راوی کا اظہار شک ہے حضرت علی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی اس دعا کے بعد پھر مجھ کو وہ بیماری کبھی لاحق نہیں ہوئی، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
فارفغنی ف کے زبر اور غین کم جزم ساتھ منقول ہے جو رفاغۃ سے ہے اور جس کے معنی کشادگی اور فراغت کے ہیں اور ایک صحیح نسخہ میں یہ لفظ عین کے ساتھ فارفغنی منقول ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے علی کو ٹھوکا دیا تاکہ وہ اس معاملہ میں اپنی غفلت پر متنبہ ہوں، حرف شکایت زبان پر لانے سے باز رہیں پائے مبارک کی ضرب کی برکت سے بہرمند ہوں اور ذات رسالت پناہ کی قدم بقدم کمال متابعت ان کو حاصل ہو۔ یہ راوی کا شک ہے یہ جملہ بعد کے کسی راوی کا ہے جس نے واضح کیا ہے کہ اس موقع پر پہلے راوی نے اپنا شک ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو اللہم عافہ (الہٰی) اس کو عافیت عطا فرما، کے ارشاد فرمائے تھے یا اللہم اشعفہ الہٰی! اس کو شفا بخش) کے الفاظ، بہرحال آنحضرت ﷺ کی اس دعا میں یہ تعلیم اور تلقین پوشیدہ ہے کہ مریض کو بس یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اے اللہ! مجھ کو عافیت عطا فرمایا اے اللہ! مجھ کو شفا بخش دعا میں تردید کا پہلو اعتبار کرنا یعنی یوں کہنا کہ یا یہ کر یا وہ کر، جیسا کہ حضرت علی کی دعا تھی غیر مناسب بات ہے کیونکہ تردید کا پہلو ایک طرح سے جبر اور دباؤ کا مفہوم ظاہر کرتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ پر جبر کرنے اور دباؤ ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔
Top