Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 6068
وعن بريدة قال : خطب أبي بكر وعمر فاطمة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنها صغيرة ثم خطبها علي فزوجها منه . رواه النسائي
فاطمہ زہراء کا نکاح
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے فاطمہ سے نکاح کا پیغام دیا تو رسول کریم ﷺ نے کہہ دیا کہ وہ کمسن ہے اور پھر جب حضرت علی نے فاطمہ سے اپنے نکاح کا پیغام دیا تو آپ ﷺ نے ان سے فاطمہ کا نکاح کردیا۔ (نسائی)
تشریح
کہہ دیا کہ وہ کمسن ہے اور ایک روایت میں فسکت کے الفاظ ہیں، یعنی آپ ﷺ نے ان دونوں کا پیغام آنے پر سکوت اختیار فرمایا کوئی جواب نہیں دیا پس ہوسکتا ہے کہ یہ جواب دینے کی صورت دوسری مرتبہ پیغام دینے پر پیش آئی ہو یعنی پہلی مرتبہ کے پیغام پر تو آپ ﷺ نے سکوت اختیار فرما لیا ہو اور جب انہوں نے دوسری مرتبہ پیغام دیا تو آپ ﷺ نے یہ جواب دیا ہو کہ فاطمہ کمسن ہے۔ پھر جب حضرت علی نے۔۔۔۔۔۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ ام ایمن نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ فاطمہ کے لئے آنحضرت ﷺ سے تم کیوں نہیں درخواست کرکے دیکھتے، تم تو آنحضرت ﷺ کے چچا کے بیٹے ہو، تمہاری درخواست قبول ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ حضرت علی نے یہ سن کر جواب دیا آنحضرت ﷺ سے بات کہتے ہوئے مجھ کو حجاب آتا ہے پھر کسی ذریعہ سے یہ بات آنحضرت ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے رضامندی کا اظہار فرمایا اور جب حضرت علی کو آنحضرت ﷺ کی رضا مندی معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنی درخواست آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کی اور آنحضرت ﷺ نے حضرت فاطمہ کا نکاح ان سے کردیا۔ ایک اور روایت میں جو ابوالخیر قزوینی حاکمی نے حضرت انس بن مالک ؓ نقل کی ہے۔ حضرت فاطمہ کے نکاح کا واقعہ تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ پہلے حضرت ابوبکر نے فاطمہ کے لئے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی تو آپ ﷺ نے ان کو جواب دیا کہ اے ابوبکر! فاطمہ کے بارے میں ابھی تک فیصلہ الٰہی نازل نہیں ہوا پھر حضرت عمر نے اور بعض دوسرے قریش نے یہی درخواست اپنی طرف سے پیش کی تو آنحضرت ﷺ نے ان سب کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر کو پہلے دے چکے تھے، پھر بعد میں کچھ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ فاطمہ کے لئے اگر تم آنحضرت ﷺ سے درخواست کرو تو امید ہم کہ آنحضرت ﷺ ان کا نکاح تمہارے ساتھ کردیں گے، حضرت علی نے کہا جب قریش کے معززین حضرات کی یہ درخواست شرف قبولیت نہیں پاس کی تو بھلا میں اپنی درخواست کے بارے میں کیسے امید رکھوں۔ آخر کار حضرت علی نے پیغام ڈال دیا اور ان کے پیغام پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا میرے بزرگ و برتر پروردگار نے مجھ کو اس کا حکم دے دیا ہے۔ حضرت انس آگے بیان کرتے ہیں کہ چند دنوں کے بعد آنحضرت ﷺ نے مجھ کو طلب کیا اور فرمایا کہ جاؤ اور ابوبکر، عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، طلحہ، زبیر اور انصار کے فلاں فلاں کو میرے پاس بلالاؤ۔ انس کہتے ہیں کہ میں ان سب کو بلا لایا اور یہ حضرات آآ کر آنحضرت ﷺ کے سامنے اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے، اس وقت حضرت علی کہیں کام سے گئے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے یہ خطبہ پڑھا الحمد اللہ المحمود بنعمۃ المعبود بقدرتہ المطاع بسلطانہ المرہوب من عذابہ وسطوتہ النفذ امرہ فی سماہ وارضہ الذی خلق الخلق بقدرتہ ومیزہم باحکامہ واعزہم بدینہ واکرمہم بنبیہ محمد ﷺ ان اللہ تبارک وتعالیٰ اسمہ وعظمتہ جعل المصاہرۃ سببا لا حقاوامرامفترضا اوشج بہ الارحام والزمہ للانام فقال عزمن قائل وہو الذی خلق من الماء بشرا فجعلہ نسبا وصہرا وکان ربک قدیرا وامر اللہ تعالیٰ یجری الی قضاؤہ یجری الی قدرہ لکل قضاء قدرولکل قدر اجل ولکل اجل کتاب یمحو اللہ ما یشاء ویثبت وعندہ ام الکتاب پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں اپنی بیٹی فاطمہ بنت خدیجہ کا نکاح علی بن ابی طالب سے کردوں، پس تو لوگ گواہ رہو کہ میں نے فاطمہ سے علی کا نکاح چار سو مثقال چاندی پر کردیا ہے اگر علی راضی ہوں، پھر آپ ﷺ نے چھوہاروں کا ایک طباق منگا کر ہمارے سامنے رکھا اور فرمایا کہ لوٹ لو، ہم نے وہ چھورہاے لوٹے ابھی ہم ان چھوہاروں کو لوٹ ہی رہے تھے کہ اچانک حضرت علی بھی آکر آنحضرت ﷺ کے قریب بیٹھ گئے، آپ ﷺ ان کو دیکھ کر مسکرائے اور پھر ان کو دیکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو حکم دیا کہ تمہارے ساتھ فاطمہ کا نکاح چار سو مثقال چاندی پر کردوں، اگر تم راضی ہو، حضرت علی نے جواب دیا، یقینا میں اس پر راضی ہوں یا رسول اللہ ﷺ! اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی جمع اللہ شملکما واسعد جدکما وبارک علیکما واخرج منکما کثیرا طیبا۔ اللہ تعالیٰ تم دونوں کو دلجمعی اور حسن رفاقت عطا کرے، تم دونوں کو نصیبہ ور بنائے، تم دونوں پر برکتیں نازل فرمائے اور تم دونوں کو نہایت پاکیزہ نفس اولاد سے بہرور کرے۔ حضرت انس کہتے تھے کہ اللہ کی قسم (آنحضرت ﷺ کی اسی دعا کے طفیل) اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو نہایت پاکیزہ نفس اولاد سم سرفراز کیا۔
Top