Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 6003
قاتلانہ حملہ اور شہادت
مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام فیروز نام کا تھا جس کی کنیت ابولؤلؤ تھی، اس نے ایک دن حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے آقا مغیرہ ابن شعبہ کی شکایت کی کہ انہوں نے مجھ پر بہت بھاری ٹیکس عائد کر رکھا ہے آپ کم کرا دیجئے۔ حضرت عمر نے اس ٹیکس کی مقدار اور اس کے کام کی صلاحیت وآمدنی وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس سے کہا کہ یہ ٹیکس کچھ زائد نہیں ہے، ابولؤلؤ یہ سن کر دل میں سخت ناراض ہوا اور حضرت عمر کے پاس سے واپس چلا گیا۔ دوسرے دن ابولؤلؤ ایک زہر الود دو دھاری خنجر لے کر اندھیرے منہ مسجد میں آکر ایک کونے میں چھپ گیا اور جب حضرت عمر فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور امامت کے لئے آگے بڑھنے لگے تو اس نے دفعۃ ً گھات میں سے نکل کر ان پر خنجر کے چھ وار کئے، جن میں سے ایک ناف کے نیچے پڑا زخم اتنا کاری تھا کہ حضرت عمر تاب نہ لا کر فورًا گرپڑے، حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ کر جلدی جلدی نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔ حملہ کے تین دن کے بعد حضرت عمر نے جان جاں آفریں کے سپرد کی اور محرم ٢٤ ھ کی پہلی تاریخ شنبہ کے دن مدفون ہوئے حضرت صہیب نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ بعض حضرات نے حملہ کا واقعہ ذی الحجہ ٢٣ ھ کی ٢٧ تاریخ چہار شنبہ کے دن کا لکھا ہے اور تاریخ مدفون ١٠ محرم ٢٤ ھ بروز یکشنبہ بیان کی ہے، حضرت عمر کی خلافت سارھے دس سال رہی اور عمر تحقیقی قول کے مطابق ٦٣ سال کی ہوئی، صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں جن میں حضرت ابوبکر اور باقی عشرہ مبشرہ صحابہ بھی شامل ہیں۔
Top