Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5526
وعن أبي هريرة قا ل : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أول زمرة يدخلون الجنة على صورة القمر ليلة البدر ثم الذين يلونهم كأشد كوكب دري في السماء إضاءة قلوبهم على قلب رجل واحد لا اختلاف بينهم ولا تباغض لكل امرئ منهم زوجتان من الحور العين يرى مخ سوقهن من وراء العظم واللحم من الحسن يسبحون الله بكرة وعشيا لا يسقمون ولا يبولون ولا يتغوطون ولا يتفلون ولا يتمخطون آنيتهم الذهب والفضة وأمشاطهم الذهب ووقود مجامرهم الألوة ورشحهم المسك على خلق رجل واحد على صورة أبيهم آدم ستون ذراعا في السماء . رواه مسلم
جنت کی نعمتوں کا ذکر
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگ جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے ( یعنی انبیاء علیہم السلام) وہ چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ومنور ہونگے اور ان کے بعد جو لوگ داخل ہوں گے (یعنی علماء، اولیاء، شہدا اور صلحاء) وہ اس ستارے کی مانند روشن وچمکدار ہوں گے جو آسمان پر بہت تیز چمکتا ہے ( اور چاند وسورج سے کم لیکن اور ستاروں سے زیادہ روشن ہوتا ہے) تمام جنتیوں کے دل ایک شخص کے دل کی مانند ہوں گے ( یعنی ان کے درمیان اس طرح باہمی ربط و اتفاق ہوگا کہ وہ سب ایک دل اور ایک جان ہوں گے) نہ تو ان میں کوئی باہمی اختلاف ہوگا اور نہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بغض و عداوت رکھیں گے۔ ان میں سے ہر ایک شخص کے لئے حو رعین میں سے دو دو بیویاں ہوں گی ( جو اتنی زیادہ حسین و جمیل اور صاف شفاف ہوں گی گہ) ان کی پنڈلیوں کی ہڈی کا گودا ہڈی اور گوشت کے باہر سے نظر آئے گا۔ تمام جنتی صبح وشام ( یعنی ہر وقت) اللہ تعالیٰ کو یاد کیا کریں گے وہ نہ تو بیمار ہوں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ پھریں گے، نہ تھوگیں گے اور نہ ( رینٹھ سنکیں گے، ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر ہوگا۔ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا اور سارے جنتی ایک شخص کی سی عادت و سیرت کے ہوں گے ( یعنی سب کے سب یکساں طور پر خوش خلق وملنسار اور ایک دوسرے سے گہرا ربط وتعلق رکھنے والے ہوں گے) نیز وہ سب شکل و صورت میں باپ آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوں گے اور ساٹھ گز اونچا قد رکھتے ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حور اصل میں حوراء، کی جمع ہے اور حوراء اس حسین و جمیل عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھ کی سفیدی وسیاہی بہت زیادہ سفید و سیاہ ہو، عین عنا! کی جمع ہے جس کے معنی بڑی بڑی آنکھوں والی ہے آگے دوسری فصل کے آخر میں ایک روایت آئے گی جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ سب سے ادنیٰ درجہ کا جنتی وہ ہوگا۔ جس کے بہتر ٧٢ بیویاں ہوں گی، جب کہ یہاں دو بیویوں کا ذکر ہے؟ لہٰذا ان دونوں روایتوں کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے کہا جائے گا کہ یہاں حدیث میں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ حور عین میں سے دو بیویاں ایسی ہونگی جن کا حسن و جمال سب سے زیادہ ہوگا یہاں تک کہ ان کی پنڈلیوں کی ہڈیوں کا گودا باہر سے نظر آئے گا، ظاہر ہے کہ یہ بات اس کے منافی نہیں ہے کہ ہر جنتی کو اس نوعیت کی دو بیویوں کے علاوہ اور بہت سی بیویاں بھی ملیں۔ ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن اگر، ہوگا۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہاں دنیا میں تو انگیٹھیوں کا ایندھن کوئلہ وغیرہ ہوتا ہے اور یہاں خوشبو حاصل کرنے کے لئے اگر چلایا جاتا ہے لیکن جنت میں انگیٹھیوں کا ایندھن ہی اگر، ہوگا۔ واضح رہے کہ وقود ( واؤ کے پیش کے ساتھ) کے معنی ہیں وہ ایندھن ( یعنی لکڑیاں وغیرہ) جس سے آگ جلائی جائے محامیر اصل میں محمر کے جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جس میں آگ سلگانے کے لئے آگ رکھی جائے یعنی انگیٹھی یا عود سوز، یوں تو یہ لفظ میم کے زیر کے ساتھ ہے لیکن میم کے زبر کے ساتھ بھی منقول ہے۔ الوۃ ( الف کے زبر اور پیش کے ساتھ) آگر کی لکڑی کو کہتے ہیں جس کو دھونی دینے کے لئے جلایا یا سلگایا جاتا ہے۔ علی خلق رجل میں لفظ خلق خ کے پیش کے ساتھ ہے اور ترجمہ میں اسی کا اعبتار کیا گیا ہے۔ اس صورت میں علی صورۃ ابیہم ایک علیحدہ جملہ ہوگا جس کا مقصد جنتیوں کی سیرت کو بیان کرنے کے بعد ان کی شکل و صورت کو بیان کرنا ہے، لیکن بعض روایتوں میں یہ لفظ خ کے زبر کے ساتھ منقول ہے، جس کا بامطلب ترجمہ یہ ہوگا کہ وہ سب ( جنتی لوگ) ایک شخص کی سی شکل و صورت رکھیں گے، حسن و خوبصورتی میں یکساں ہوں گے اور ایک ہی عمر والے ہوں گے، یعنی سب کے سب تیس تیس یا تینتیس تینتیس سال کی عمر کے نظر آئیں گے، اس صورت میں کہا جائے گا کہ علی صورت ابیھم کا جملہ اپنے پہلے جملہ علی خلق رجل واحد کی وضاحت وبیان کے لئے ہے یہ بات ذہن میں رہے کہ پیش والی روایت بھی صحیح ہے اور زبر والی روایت بھی۔
Top