Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5524
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض والفردوس أعلاها درجة منها تفجر أنهار الجنة الأربعة ومن فوقها يكون العرش فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس رواه الترمذي ولم أجده في الصحيحين ولا في كتاب الحميدي
جنت کے درجات
اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ان میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ زمین وآمسان کے درمیان ہے اور فردوس صورۃ اور معنی وہ اپنے درجات ( کی بلندی) کے اعتبار سے سب جنتوں سے اعلی و برتر ہے اور اسی فردوس سے بہشت کی چاروں نہریں نکلتی ہیں اور فردوس ہی کے اوپر عرش الہٰی ہے پس جب تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو ( جو سب سے اعلی و برتر ہے) اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور مجھے یہ حدیث نہ تو صحیین میں ملی ہے اور نہ کتاب حمیدی میں۔
تشریح
سو درجے میں سو کا عدد تعین وتحدید کے لئے نہیں بلکہ کثرت کے اظہار کے لئے بھی ہوسکتا ہے اس کی تائید حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس مرفوع روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو بیہقی نے نقل کیا ہے اور جس میں جنت کے درجات کی تعداد قرآن کی آیتوں کے برابر بیان کی گئی ہے روایت کے الفاظ یہ ہیں عدد درج الجنت عدد ای القران فمن دخل الجنۃ من اہل القران فلیس فوقہ درجۃ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سو سے یہ خاص عدد ہی مراد ہو اور اس کے ذریعہ جنت کے کثیر درجات میں صرف ان سو درجوں کا بیان کرنا مقصود ہو، جن میں سے ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ مذکور فاصلہ سے کم یا زیادہ ہوگا دیلمی نے مسند فردوس میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ جنت میں ایک درجہ وہ ہے جس تک اصحاب ہموم کے علاوہ اور کوئی نہیں پہنچے گا فردوس جنت کا نام ہے اور یہ نام قرآن کریم میں بایں طور مذکور ہے کہ (اُولٰ ى ِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ 10 الَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ 11) 23۔ المؤمنون 11-10) یہی ( پاک طینت پاک کردار) لوگ ( جن کا پچھلی آیتوں میں ذکر ہوا) وارث بنیں گے ( یعنی فردوس کی میراث حاصل کریں گے ( اور) اس میں ہمشہ ہمیشہ رہیں گے چاروں نہروں سے مراد پانی، دودھ شہد اور شراب کی وہ نہریں ہیں جن کا ذکر قرآن کریم کی ان آیات میں کیا گیا ہے۔ فیہا انہار من ماء غیر اسن وانہار من لبن لم یتغیر طعمہ وانہار من خمر لذۃ للشاربین وانہار من عسل مصفی۔ جنت میں بہت سی چیزیں تو ایسے پانی کی ہیں جس میں ذرا تغیر نہ ہوگا اور بہت سی نہریں دودھ کی ہیں جن کا ذائقہ ذرا بدلہ ہوا نہ ہوگا اور بہت سی نہریں شراب کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو پینے والوں کو بہت لذیذ معلوم ہوں گی اور بہت سی نہریں شہد کی ہیں جو بالکل صاف و شفاف ہوگا۔ فردوس ہی کے اوپر عرش الہٰی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ فردوس سب جنتوں سے افضل اور اوپر ہے کہ اس کے اوپر بس عرش الہٰی ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے امت کو تلقین فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگو تاکہ سب سے اعلی اور سب سے بہتر جنت تمہیں حاصل ہو۔ روایت کے آخر میں مولف مشکوۃ کے ان الفاظ اور مجھے یہ حدیث نہ تو صحیین میں ملی ہے۔۔ الخ۔ کے ذریعہ دراصل صاحب مصابیح پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو فصل اول میں نقل کیا ہے جس میں صرف بخاری ومسلم کے متون میں ملی ہے اور نہ ان دونوں کتابوں کے مجموعہ کتاب حمیدی میں! لہذا اس حدیث کو فصل اول کے بجائے فصل دوم میں نقل کرنا چاہئے تھا۔ صاحب مصابیح پر مؤلف مشکوۃ کا اعتراض تو یہ ہے مگر بعض شارحین نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح بخاری میں دو جگہ موجود ہے ایک تو کتاب الجہاد میں اور دوسری کان عرشہ علی الماء کے باب میں اور صحیح مسلم میں بھی فضل جہاد فی سبیل اللہ کے باب میں موجود ہے۔
Top