Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5702
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن رجلين ممن دخل النار اشتد صياحهما فقال الرب تعالى : أخرجوهما . فقال لهما : لأي شيء اشتد صياحكما ؟ قالا : فعلنا ذلك لترحمنا . قال : فإن رحمتي لكما أن تنطلقا فتلقيا أنفسكما حيث كنتما من النار فيلقي أحدهما نفسه فيجعلها الله بردا وسلاما ويقوم الآخر فلا يلقي نفسه فيقول له الرب تعالى : ما منعك أن تلقي نفسك كما ألقى صاحبك ؟ فيقول : رب إني لأرجو أن لا تعيدني فيها بعد ما أخرجتني منها . فيقول له الرب تعالى : لك رجاؤك . فيدخلان جميعا الجنة برحمة الله . رواه الترمذي
رحمت خداوندی کے دو مظاہر
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا! ( اہل ایمان میں سے) جو لوگ اپنے گناہوں کی پاداش میں) دوزخ میں داخل ہوں گے ان میں سے دو آدمی بہت زیادہ شور مچائیں گے ( یعنی رونا دھونا اور آہ و فریاد شروع کردیں گے اور خوب چیخیں چلائیں گے) پروردگار ( دوزخ کے فرشتوں کو) حکم دے گا کہ ان دونوں کو باہر نکالو اور جب وہ باہر آئیں گے تو) ان سے فرمائے گا کہ کیوں اس قدر چیخ چلا رہے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ہم اس لئے چیخ چلا رہے تھے تاکہ آپ کی رحمت ہماری طرف متوجہ ہوجائے ( اور ہمیں خوب معلوم ہے کہ آپ اس شخص کو پسند کرتے ہیں جو آپ کے آگے روئے دھوئے اور آہ و فریاد کرے) اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارے حق میں میری رحمت یہی ہے کہ تم واپس جاؤ اور دوزخ میں جہاں تھے وہیں پڑے رہو۔ ان میں سے ایک شخص تو ( یہ سنتے ہی کامل اطاعت اور رضائے الہٰی کی طلب میں) واپس ہوجائے گا اور خود کو دوزخ کی آگ میں ڈال دے گا اور اللہ تعالیٰ اس آگ کو اس کے لئے ٹھنڈا کر دے گا ( کہ جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے آگ کو گل و گلزار بنادیا تھا) اور دوسرا شخص ( اپنے کو اس معاملہ میں بالکل بےبس پاتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم پر کامل یقین رکھتے ہوئے) وہیں کھڑا رہے گا اور خود کو آگ میں نہیں ڈالے گا! اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے خود کو آگ میں کیوں نہیں ڈالا جب کہ تیرا ساتھی ( میرا حکم سنتے ہی چلا گیا اور) آگ میں کود پڑا؟ وہ عرض کریے گا کہ پروردگار میں تو اسی امید پر قائم ہوں کہ آپ نے جب مجھے دوزخ سے باہر بلوا لیا تو اب دوبارہ وہاں نہیں بھیجیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا! تو نے جو امید قائم کی ہے وہ تیرے حق میں پوری کی جاتی ہے۔ چناچہ وہ دونوں شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے صدقہ میں ایک ساتھ جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ (ترمذی)
تشریح
تمہارے حق میں میری رحمت یہی ہے کہ تم واپس جاؤ۔۔ الخ۔ کے سلسلے میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ دوزخ میں واپس جا کر سپرد آگ ہونے کو رحمت پر کس اعتبار سے حمل کیا گیا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہوگا کہ یہ ارشاد اصل سبب کو سبب پر حمل کرنے کے اسلوب سے تعلق رکھتا ہے! وضاحت کے ساتھ اس بات کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کو دوزخ میں ان کے اس قصور کی پاداش میں داخل کیا جائے گا کہ انہوں نے اس بات کی اطاعت کے حکم کے ذریعہ کہ وہ دوزخ میں واپس جا کر اپنے آپ کو آگ کے سپرد کردیں اس امر پر تنبیہ کی جائے گی کہ رحمت الٰہی کا مستحق وہی شخص ہوتا ہے جو ہر حالت میں اس کے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔ تو نے جو امید قائم کی ہے وہ تیرے حق میں پوری کی جاتی ہے۔ سے یہ ثابت ہوا کہ بندہ کا پروردگار پر امید باندھنا اس کے عطاء و کرم کے حصول میں بہت موثر ہے، خواہ وہ بندہ اپنے عجز ونا تو انی کے سبب اطاعت و فرمانبرداری کے دائرہ سے باہر ہی نکلا ہوا کیوں نہ ہو۔
Top