Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5341
قیامت کی علامتوں کا بیان
شرط (را کے جزم کے ساتھ) کے معنی ہیں۔ کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ وابستہ کرنا یا کسی چیز کا لازم کرنا جیسا کہ یوں کہا جائے اگر ایسا ہو تو ایسا ہوگا! اس کی جمع شروط آتی ہے شرط (را کے زبر کے ساتھ) کے معنی ہیں علامت یعنی وہ چیز جو کسی وقوع پذیر ہونے والی چیز کو ظاہر کرے! اس کی جمع اشراط ہے پس یہاں سے اشراط سے مراد وہ نشانیاں اور علامتیں ہیں جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کریں گی۔ ویسے لغت میں شرط کے معنی کسی چیز کا اول، مال کا زوال اور چھوٹا و کمتر مال لکھے ہیں۔ ساعۃ شب و روز کے اجزاء میں سے کسی بھی ایک جزء کو کہتے ہیں یہ لفظ موجودہ وقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پس قیامت یا قیامت کے آنے کو ساعت اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ جب اس کا وقت غیر معلوم ہے تو وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے یہاں تک آنے والا لمحہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ اسی وقت قیامت نہ آجائے۔ علماء نے وضاحت کی ہے کہ اشراط ساعت یعنی قیامت کی علامتوں سے مراد وہ نسبتا چھوٹی چیزیں ہیں جو قیامت آنے سے پہلے وقوع پذیر ہوں گی اور جن کو لوگ قیامت کی علامتیں تسلیم نہیں کریں گے مثلا لونڈی کا اپنے مالک کو جننا، فلک بوس عمارتیں بنانا اور ان پر فخر کرنا، جہل ونادانی، زنا کاری اور شراب خوری کی کثرت، مردوں کی کمی اور عورتوں کی زیادتی، امانتوں میں خیانت وبدیانتی، لڑائیوں اور فتنہ فساد کی زیادتی اور اس طرح کی دوسری برائیوں کا ذکر اس باب میں آئے گا۔ اشراط کی وضاحت اس معنی کے ساتھ اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ بڑی علامتیں کہ جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی اور جن کا ذکر اگلے باب میں ہوگا، ان چھوٹی علامتوں کے علاوہ ہیں! رہی یہ بات کہ لوگ مذکورہ بالا چیزوں کو قیامت کی علامتیں تسلیم کرنے سے کیوں انکار کریں گے! تو اس کی وجہ اصل میں یہ ہوگی کہ اس طرح کی چیزیں اس دنیا میں ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں، پس لوگ یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ چیزیں تو دنیا میں ہوتی رہتی ہیں، اب ان میں کیا خصوصیت پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو قیامت کی علامتیں کہا جائے۔ واضح رہے کہ مذکورہ چیزوں کا محض وجود قیامت کی علامت نہیں ہے بلکہ ان چیزوں کا کثرت کے ساتھ وقوع پذیر ہونا اور ان برائیوں کا غیر معمولی طور پھیل جانا ہے، قیامت کی علامت ہے! ایک بات اور بتا دینی ضروری ہے کہ اس باب میں حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے کا بھی ذکر ہے، جب کہ ان کا ظاہر ہونا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور دجال کے پیدا ہونے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، لہذا اس بارے میں کوئی اشکال واقع نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس باب میں حضرت مہدی (علیہ السلام) کے ظاہر ہونے کا ذکر، لڑائیوں اور فتنوں کے ذکر کے ضمن میں ہوا ہے نہ کہ مستقل طور پر اس سلسلہ میں مزید وضاحت اگلے باب میں ہوگی۔
Top