Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5016
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أتدرون ما المفلس ؟ . قالوا المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع . فقال إن المفلس من أمتي من يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة ويأتي وقد شتم هذا وقذف هذا . وأكل مال هذا . وسفك دم هذا وضرب هذا فيعطى هذا من حسناته وهذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار . رواه مسلم
حقیقی مفلس کون ہے
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے (صحابہ ؓ سے) فرمایا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ بعض صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو درہم و دینار (روپیہ پیسہ) ہو اور نہ سامان و اسباب (یعنی انہوں نے اپنے جواب میں مفلس اس شخص کو بتایا جو مال و زر اور روپیہ و پیسہ سے تہی دست ہو جیسا کہ عام طور پر دنیا والے سمجھتے ہیں صحابہ ؓ کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ حضور ﷺ کی مراد دنیاوی طور پر مفلس شخص کے بارے میں پوچھنا نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کے سوال کا تعلق اس شخص سے ہے جو آخرت کے اعتبار سے مفلس ہو) چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میری امت مرحومہ میں مفلس شخص درحقیقت وہ ہے جو قیامت کے دن میدان حشر میں (دنیا سے) نماز، روزہ اور زکوٰۃ (اور دوسری عبادتیں) لے کر آئے، مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی کسی کو (ناحق) مارا پیٹا تھا (غرض کہ اس نے جہاں تمام مالی و بدنی عبادتیں کی تھیں وہیں ان برائیوں کا مرتکب بھی ہوا تھا چناچہ اس کی نیکیوں میں سے (پہلے کسی ایک مظلوم و صاحب حق کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی (اس طرح اس نے دنیا میں جس کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کیا ہوگا اور جس جس کو ناحق ستایا ہوگا ان سب کو الگ الگ اپنے حق کے بقدر اس کی نیکیوں میں سے دیا جائے گا یہاں تک کہ اگر اس کے ان گناہوں کا فیصلہ ہونے سے پہلے اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں گی (یعنی اگر اس کی تمام نیکیاں ان سب حق والوں کو دے دینے کے بعد بھی حقوق العباد کو تلف کرنے کی سزا پوری نہیں ہوگی) تو اس حق داروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے دنیا میں کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اس کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ بندوں کے حقوق کی پامالی کرنے والے کو آخرت میں نہ تو معافی ملے گی اور نہ اس کے حق میں شفاعت کام آئے گی، ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی کے لئے چاہے گا تو وہ مدعی (صاحب حق) کو اس کے مطالبہ کے مطابق اپنی نعمتیں عطا فرما کر راضی کر دے گا۔ نووی (رح) کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ مفلس اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس مال و دولت اور روپیہ پیسہ نہیں ہوتا یا بہت کم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں مفلس وہی شخص ہے جس کے بارے میں ذکر کیا گیا، چناچہ دنیاوی مال و دولت سے تہی دست شخص کو حقیقی مفلس نہیں کہا جاسکتا کیونکہ مال و دولت اور روپیہ پیسہ کا افلاس عارضی ہوتا ہے جو موت کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے بلکہ بسا اوقات زندگی ہی میں وہ افلاس، مال و دولت کی فراوانی میں تبدیل ہوجاتا ہے اس کے برخلاف حدیث میں جس افلاس کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی سے ہے اور اس افلاس میں مبتلا ہونے والا شخص پوری طرح ہلاک ہوگا۔
Top