Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 5004
وعن أسماء بنت عميس قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بئس العبد عبد تخيل واختال ونسي الكبير المتعال بئس العبد عبد تجبر واعتدى ونسي الجبار الأعلى بئس العبد عبد سهى ولهى ونسي المقابر والبلى بئس العبد عبد عتى وطغى ونسي المبتدأ والمنتهى بئس العبد عبد يختل الدنيا بالدين بئس العبد عبد يختل الدين بالشبهات بئس العبد عبد طمع يقوده بئس العبد عبد هوى يضله بئس العبد عبد رغب يذله رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان . وقالا ليس إسناده بالقوي وقال الترمذي أيضا هذا حديث غريب
برے بندے کون ہیں؟
اور حضرت اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ برا بندہ ہے جس نے اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر جانا اور تکبر کیا اور خداوند بزرگ و برتر کو وہ بھول گیا (یعنی اس نے یہ فراموش کردیا کہ بزرگی و بلندی و برتری صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے یا یہ بھول گیا کہ اس نے دنیا میں احتیاط وتقوی کی راہ چھوڑ کر جس برے راستہ کو اختیار کیا ہے اس کی جواب دہی اس کو اخرت میں کرنی ہوگی اور وہاں اللہ کا عذاب بھگتنا ہوگا، برا بندہ ہے وہ بندہ جس نے لوگوں پر جبر و جور کیا اور ظلم و فساد ریزی میں حد سے بڑھ گیا اور خداوند جبار قہار کو بھول گیا جس کی قدرت و عزت سب سے بلند ہے برا بندہ وہ بندہ ہے جو دین کے کاموں کو بھول گیا اور دنیا داری میں مشغول رہا اور اس نے مقبروں کو اور خاک میں مل جانے والے جسم کی کہنے گی و بوسیدگی کو فراموش کردیا۔، مقبروں کو بھولنا موت کو بھولنے سے کنایہ ہے یعنی اس نے یہ فراموش کردیا کہ ایک دن موت کا پنجہ آدبوچے گا اور اس وقت سے پہلے ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کے لئے کچھ تیاری کر لینی چاہیے۔ برا بندہ وہ ہے جس نے فتنہ و فساد برپا کیا اور حد سے متجاوز ہوگیا اور اپنی ابتداء و انتہاء کو بھول گیا، یعنی نہ تو اس کو یاد رہا کہ وہ کتنی ہی حقیر سی چیز سے پیدا کیا گیا ہے اور ابتداء میں وہ کس قدر عاجز و نا تو اں تھا اور نہ اس کو اپنا انجام یادر رہا کہ ابھی اس کو کیا کیا دیکھنا ہے۔ اور آخرکار پیوند زمین ہوجانا ہے۔ برا بندہ وہ ہے جو دین کے ذریعہ دنیا حاصل کرے یعنی دنیا کو حاصل کرنے کے لئے دین کو وسیلہ بنائے یا یہ معنی ہیں کہ صلحاء اور بزرگوں کی شکل اختیار کرے اور دین کا لبادہ اوڑھے اور اہل دنیا کو فریب دے تاکہ وہ اس کے معتقد و مداح ہوجائیں اور ان سے مال و جاہ حاصل کرے۔ برا بندہ وہ ہے جس نے مخلوق سے طمع وامید قائم کی اور حرص و طمع اس کو دنیا داروں کے دروازہ پر کھینچے پھرتی ہے اور جدھر چاہتی ہے لے جاتی ہے اور برا بندہ وہ ہے جس کو دنیا کی طرف اس کی رغبت و خواہش حصول دنیا کی حرص اور کثرت مال و جاہ کی ہوس ذلیل و خوار کرتی ہے اور اس کے دین کی آبر و ریزی کرتی ہے، اس روایت کو ترمذی نے اور شعب الایمان میں بہیقی نے نقل کیا ہے۔ اور دونوں نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ہیں نیز ترمذی نے بھی کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
یہ حدیث محض ترمذی و بیہقی کی مذکورہ اسناد ہی سے منقول نہیں ہے بلکہ اس کو طبرانی نے بھی نقل کیا ہے اور ایک دوسرے موقع پر بیہقی نے نعیم بن ہماز سے نقل کیا ہے کہ نیز اس کو حاکم نے بھی اپنی مستدرک میں نقل کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کثرت طرق ضعیف حدیث کو قوی کردیتا ہے اور اس کو حسن لغیرہ کے درجہ پر پہنچا دیتی ہے جس سے روایت کا مقصد پورا ہوجاتا ہے جہاں تک ترمذی کے اس قول کا تعلق کہ یہ حدیث غریب ہے تو واضح رہے کہ اول تو غرابت صحت اور حسن کے منافی نہیں ہے دوسرے یہ کہ تمام محدثین کے نزدیک فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاتا ہے۔ لہذا وعظ و نصیحت کے موقع پر اس حدیث کو ذکر کرنا اور لوگوں کو اس سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کرنا بطریق اولی مناسب ہوگا۔
Top