Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 4894
وعن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أول خصمين يوم القيامة جاران . رواه أحمد
حقوق ہمسائیگی کی اہمیت
اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے دو جھگڑنے والے دو ہمسایہ ہوں گے۔ (احمد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن اہل دوزخ کے بعد حقوق کی عدم ادئیگی سے متعلق جو معاملہ سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ ان دو ہمسایوں کا ہوگا جنہیں آپس میں ایک دوسرے سے ایذا رسانی یا حقوق واجب الادا میں تقصیر و کوتاہی وغیرہ سے دوچار ہونا پڑا ہوگا۔ واضح رہے کہ ایک روایت میں یوں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس محاسبہ کا سامنا کرنا پڑے گا وہ نماز ہے نیز ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ قیامت کے دن بندہ کے سب سے پہلے جس معاملہ کا فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کا معاملہ ہے اور مذکورہ بالا روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس معاملہ کا فیصلہ کیا جائے گا وہ ہمسایوں کی مخاصمت کا ہوگا چونکہ ان روایتوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے اس لئے علماء نے ان تمام روایتوں کے درمیان تطبیق دی ہے حقوق اللہ کے سلسلہ میں سب سے پہلے خون کے معاملہ کا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ کسی کو ناحق خون بہانا بہت بڑا گناہ ہے رہی مذکوہ بالا حدیث تو لفظ خصمین کے ذریعہ یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حدیث دونوں فریق کے ایک دوسرے کے خلاف دعوی رکھنے کے ساتھ مقید ہے یعنی جو لوگ ایسے ہیں ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے حقوق کی ادئیگی میں کوتاہی کا تعلق دونوں فریق سے نہ ہو بلکہ کسی ایک سے ہو تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ دونوں فریق پر خصمین کا اطلاق بطریق تغلیب اور مشاکلت کے ہے جیسا کہ قرآن کے یہ الفاظ، آیت (وجزاء سیئیۃ سیئتہ مثلھا)۔ اس کی مثال حاصل یہ ہے کہ مذکورہ بالا روایتوں میں جن معاملات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ہر ایک میں اولیت اضافی ہے جس کی وجہ سے حقیقی طور پر کوئی باہمی تضاد لازم نہیں آتا۔
Top