Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 4777
وعن عبد الله بن أبي الحسماء قال بايعت النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن يبعث وبقيت له بقية فوعدته أن آتيه بها في مكانه فنسيت فذكرت بعد ثلاث فإذا هو في مكانه فقال لقد شققت علي أنا ههنا منذ ثلاث أنتظرك . رواه أبو داود
ایفاء عہد کی عملی تعلیم
اور حضرت عبداللہ بن ابوحسماء ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے ایک مرتبہ میں نے آپ سے کسی چیز کو خریدا اور اس کے کچھ حصہ کی ادائیگی مجھ پر باقی رہ گئی اور میں نے وعدہ کیا کہ میں بقیہ قیمت لے کر اسی جگہ جہاں آپ تشریف فرماتے یا جہاں میں نے وہ چیزخریدی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا لیکن میں اس وعدہ کو بھول گیا اور پھر تیسرے دن یہ بات یاد آئی کہ میں نے آپ سے کوئی وعدہ کیا تھا جبھی میں وہ بقیہ قیمت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ اسی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں اور مجھے دیکھ کر فرمایا کہ تم نے مجھ کو بڑی زحمت میں مبتلا کردیا میں تین دن سے اسی جگہ بیٹھا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔ (ابوداؤد)
تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا اتنے طویل انتظار کی اس مشقت و زحمت کو برداشت کرنا اپنی چیز کی بقیہ قیمت وصول کرنے لئے نہیں تھا بلکہ اس احساس کے تحت تھا کہ جب عبداللہ نے بقیہ قیمت لے کر یہاں آنے کا وعدہ کیا تھا اور ان کے وعدے کے جواب میں گویا میری طرف سے بھی یہ وعدہ تھا کہ میں یہاں ہوں گا تو جب تک وہ یہاں نہ آجائیں ایفاء عہد کی خاطر مجھے یہاں بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے اس اعتبار سے آپ نے اپنے اس عمل کے ذریعہ امت کو یہ تعلیم دی کہ وعدہ کو بہر صورت پورا کرنا چاہیے خواہ اس کے لئے کتنی ہی زحمت کیوں نہ برداشت کرنی پڑی واضح رہے کہ دین اسلام سے پہلے بھی تمام ادیان میں وعدے کو پورا کرنے کا حکم تھا اور سارے رسول ایفاء عہد کی محافظت کرتے رہے ہیں چناچہ اللہ نے حضرت ابراہیم کی مدح و تعریف میں یوں فرمایا آیت (و ابراہیم الذی وفی)۔
Top