Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1327 - 1390)
Select Hadith
1327
1328
1329
1330
1331
1332
1333
1334
1335
1336
1337
1338
1339
1340
1341
1342
1343
1344
1345
1346
1347
1348
1349
1350
1351
1352
1353
1354
1355
1356
1357
1358
1359
1360
1361
1362
1363
1364
1365
1366
1367
1368
1369
1370
1371
1372
1373
1374
1375
1376
1377
1378
1379
1380
1381
1382
1383
1384
1385
1386
1387
1388
1389
1390
مشکوٰۃ المصابیح - جمعہ کا بیان - حدیث نمبر 4620
وعن أبي قتادة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا عرس بليل اضطجع على شقه الأيمن وإذا عرس قبيل الصبح نصب ذراعه ووضع رأسه على كفه . رواه في شرح السنة .
آنحضرت کے لیٹنے کا طریقہ
اور حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ جب سفر کے دوران آرام کرنے اور سونے کے لئے کسی جگہ رات میں اترتے تو دائیں کروٹ لیٹتے تھے جب صبح کے قریب اترتے تو اس طرح لیٹتے کہ اپنا ایک ہاتھ کھڑا کر کے اس کی ہتھیلی پر سر مبارک رکھ لیتے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ جب آپ سفر میں ہوتے اور رات کا وقت کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے اور رات کا کچھ حصہ باقی رہتا تو داہنی کروٹ پر لیٹ کر آرام فرماتے جیسا کہ سفر میں داہنی کروٹ پر لیٹنے کی آپ کی عادت تھی اور اگر ایسے وقت پڑاؤ ڈالتے کہ رات کا تقریبا پورا حصہ گزر چکا ہوتا اور صبح ہونے والی ہوتی تو اس صورت میں آپ پوری طرح لیٹنے کی بجائے دست مبارک کو کھڑا کرلیتے اور اس کی ہتھیلی پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے ایسا اس وجہ سے کیا کرتے تھے تاکہ غفلت کی نیند نہ آجائے اور فجر کی نماز قضا نہ ہوجائے اگرچہ داہنی کروٹ پر سونے کی صورت میں بھی غفلت کی نیند طاری نہیں ہوتی کیونکہ داہنی کروٹ پر لیٹنے سے لٹکا رہتا ہے اور اس کو قرار کم ملتا ہے جب کہ بائیں کروٹ پر لیٹنے سے دل اپنے ٹھکانے پر ہوتا ہے اور آرام بھی پاتا ہے جس کی وجہ سے نیند بھی اطمینان و سکون کی آتی ہے یہی وجہ ہے کہ اطباء نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی بائیں کروٹ سونے کا مشورہ دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بائیں کروٹ پر سونے سے دل چونکہ اپنی جگہ پر رہتا ہے اس لئے دل کے مطمئن و پر سکون ہونے کی وجہ سے نہ صرف آرام ملتا ہے اور چین کی نیند طاری ہوتی ہے بلکہ کھانا بھی خوب اچھی طرح ہضم ہوتا ہے کیوں کہ اس صورت میں جسم کے باہر کی حرارت بدن کے اندر رک جاتی ہے جو نظام ہضم کو بہتر معتدل بنانے کا سبب ہے بعض روایتوں میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سفر کے دوران جب رات کے آخری حصے میں کہیں اترتے تو سر مبارک کے نیچے کوئی اینٹ رکھ لیتے اور جب صبح کے وقت کے قریب اترتے تو ہاتھ کھڑا کر کے اس کی ہتھیلی پر سر مبارک کر کچھ دیر کے لئے لیٹ رہتے۔
Top