Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 5810
وعن جابر قال عطش الناس يوم الحديبية ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين يديه ركوة فتوضأ منها ثم أقبل الناس نحوه قالوا : ليس عندنا ماء نتوضأ به ونشرب إلا ما في ركوتك فوضع النبي صلى الله عليه و سلم يده في الركوة فجعل الماء يفور من بين أصابعه كأمثال العيون قال فشربنا وتوضأنا قيل لجابر كم كنتم قال لو كنا مائة ألف لكفانا كنا خمس عشرة مائة . متفق عليه
انگلیوں سے پانی کا معجزہ
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ مقام حدیبیہ میں ( ایک دن ایسا ہوا کہ پانی کی شدید قلت کے سبب) لوگوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت آنحضرت ﷺ کے پاس ایک لوٹا تھا جس سے آپ ﷺ نے وضو فرمایا تھا ( اور اس میں بہت تھوڑا سا پانی بچا) لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہمارے لشکر میں پینے اور وضو کرنے کے لئے بالکل پانی نہیں ہے، بس وہی تھوڑا سا پانی ہے جو آپ ﷺ کے لوٹے میں بچ گیا ہے ( اور ظاہر ہے) کہ اس سے سب لوگوں کا کام نہیں چل سکتا) آپ ﷺ نے ( یہ سن کر) اپنا دست مبارک اس لوٹے ( کے اندر یا اس کے منہ) میں ڈال دیا اور آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے اس طرح پانی ابلنے لگا جیسے چشمے جاری ہوگئے ہوں۔ حضرت جابر کا بیان ہے ہم سب لوگوں نے خو پانی پیا اور وضو کیا۔ حضرت جابر سے پوچھا گیا کہ اس موقع پر تم سب کتنے آدمی تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ ( آدمی) ہوتے تب بھی وہ پانی کافی ہوتا، ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہم سب لوگوں نے خوب پانی پیا کتنے قابل رشک تھے وہ لوگ جن کو اس مقدس پانی کے پینے کی سعادت نصیب ہوئی اور اس کے طفیل میں ظاہر و باطن کی کیسی پاکیزگی ان کو حاصل ہوئی، کیونکہ زمین و آسمان میں اس پانی سے زیادہ افضل اور کوئی پانی نہیں تھا۔ اگر ہم ایک لاکھ ہوتے حضرت جابر کا یہ جواب ایک لطیف طنز تھا، کہ بھلا معجزہ کے معاملہ میں کمیت کے بارے میں پوچھنا بھی کوئی بات ہوتی! تاہم انہوں نے بعد میں واضح جواب دیا کہ اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی نیز انہوں نے ایک پانچ سو کہنے کے بجائے پندرہ سو اس نکتہ کے پیش نظر کہا کہ کثرت کا جو شدید تاثر پندرہ سو کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے وہ ایک ہزار پانچ سو کے الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتا علاوہ ازیں بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مقام حدیبیہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے وہ الک الک جماعتوں کی صورت میں تقسیم تھے اور ہر جماعت ایک سو افراد پر مشتمل تھی۔ لہٰذا حضرت جابر نے پندرہ سو کے ذریعہ پندرہ جماعتوں کی طرف اشارہ کیا۔
Top