Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 4781
خوش طبعی کا بیان
مزاح، میم کے زیر کے ساتھ مصدر ہے جس کے معنی خوش طبعی کرنا ہنسنا مذاق کرنا اور میم کے پیش کے ساتھ یعنی مزاح اسم مصدر ہے جس کے معنی مطالبہ یعنی خوش طبعی و ظرافت کے ہیں۔ عربی میں لفظ مزاح کا اطلاق اس خوش طبعی اور ہنسی مذاق پر ہوتا ہے کہ جس میں کسی کی دل شکنی اور ایذاء رسانی کا پہلو نہ ہو اس کے برخلاف جس خوش طبعی اور ہنسی مذاق کا تعلق دل شکنی اور ایذاء رسانی سے ہو اس کو سخریہ کہتے ہیں۔ ایک حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ لاتمار اخاک ولاتمازحہ، یعنی اپنے مسلمان بھائی سے جھگڑا فساد نہ کرو اور نہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرو تو علماء لکھتے ہیں کہ وہ مزاح و ظرافت ممنوع ہے جس میں حد سے تجاوز کیا جائے اور اس کو عادت بنا لیا جائے کیونکہ ہر وقت مزاح و ظرافت میں مبتلا رہنا اور اس میں حد سے تجاوز کرنا بہت زیادہ ہنسنے اور قہقہ لگانے کا باعث ہوتا ہے قلب و ذہن کو قساوت اور بےحسی میں مبتلا کردیتا ہے ذکر الٰہی سے غافل کردیتا ہے مہمات دین میں غور و فکر اور پیش قدمی سے باز رکھتا ہے اور اکثر اوقات اس کا انجام ایذا رسانی اور آپس میں بغض وعناد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے علاوہ ازیں یہ بھی حقیقت ہے جو شخص ہر وقت ہنسی مذاق کرتا رہتا ہے اس کی شخص بری طرح متاثر ہوتی ہے اور مجروح ہوتی ہے اس کا کوئی دبدبہ قائم نہیں رہتا اور نہ اس کو عظمت اور اس کا وقار باقی رہتا ہے اس کے برعکس جو مزاح و ظرافت حد کے اندر اور کبھی کھبار کی جائے وہ نہ صرف مباح ہے بلکہ صحت مزاج اور و نور نشاط اور سلامت طبع کی علامت بھی ہے چناچہ آنحضرت ﷺ بھی مزاح و ظرافت کو اختیار فرماتے تھے جس سے آپ کا مقصد مخاطب کے دل بستگی و خوش وقتی اور آپس میں محبت و موانست کے جذبات کو مستحکم کرنا ہوتا تھا اور یہ چیز سنت مستحبہ ہے اور اگر اس موقع پر یہ اشکال واقع ہو کہ یہ بات کہ وہی مزاح و ظرافت مباح جو کبھی کبھی ہو اس روایت کے مخالفت ہے کہ یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مزاح کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا تو اس کا جواب مختصر یہ ہوگا کہ زیادہ مزاح و ظرافت کرنے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس سے نفس پر قابو نہیں رہتا اور ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کے برابر کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے نفس کو قابو میں رکھ سکے لہذا یہ چیز زیادہ مزاح کرنا ان امور میں سے ہے جو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں دوسروں کے لئے ان سے اجتناب ہی اولی ہے اس کی تائید ترمذی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو آگے آئے گی صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ مزاح فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں مزاح میں سچ کہتا ہون حاصل یہ کہ مزاح کرنے کی ممانعت کا تعلق آنحضرت ﷺ کے سوا دوسرے لوگوں سے ہے ہاں اگر کوئی شخص حد پر قائم رہے اور نفس پر قابو رکھے اور راہ اعتدال سے منحرف نہ ہونے پر قادر ہو وہ بھی اس ممانعت سے مستثنی ہوگا۔
Top