Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 3238
باری مقرر کرنے کا بیان
اگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے ساتھ شب باشی کے لئے نوبت باری مقرر کرنا واجب ہے یعنی ان بیویوں کے پاس باری باری سے جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ -1 جب باری مقرر ہوجائے تو ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی کے ہاں شب باشی جائز نہیں ہے مثلا جس رات میں پہلی بیوی کے ہاں جانا ہو اس رات میں دوسری بیوی کے ہاں نہ جائے۔ -2 ایک رات میں بیک وقت دو بیویوں کے ساتھ شب باشی جائز نہیں ہے اگر وہ دونوں بیویاں اس کی اجازت دیدیں اور وہ خود بھی اس کے لئے تیار ہوں تو جائز ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ایک رات میں ایک سے زائد بیویوں سے جماع کیا ہے تو یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کے باری مقرر کرنا واجب نہیں تھا یا یہ کہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کو ان بیویوں کی اجازت حاصل تھی اس کے علاوہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ باری مقرر کرنا آنحضرت ﷺ پر واجب نہیں تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے محض اپنے کرم اور اپنی عنایت سے اپنی ہر زوجہ مطہرہ کے ہاں رہنے کی باری مقرر کردی تھی۔ -3 سفر کی حالت میں بیویوں کو باری کا حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ کسی بیوی کی باری کا لحاظ رکھنا ضروری ہے بلکہ اس کا انحصار خاوند کی مرضی پر ہے کہ وہ جس بیوی کو چاہے اپنے ساتھ سفر میں لے جائے اگرچہ بہتر اولی یہی ہے کہ خاوند اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈال لے اور جس کا نام قرعہ میں نکلے اس کو سفر میں ساتھ رکھے۔ -4 مقیم کے حق میں اصلی باری کا تعلق رات سے ہے دن رات کا تابع ہے ہاں جو شخص رات میں اپنے کام کاج میں مشغول رہتا ہو مثلا چوکیداری وغیرہ کرتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ رات اپنے گھر میں بسر نہ کرسکتا ہو تو اس کے حق میں اصل باری کا تعلق دن سے ہوگا۔ درمختار میں یہ لکھا ہے کہ جس شخص کے ایک سے زائد بیویاں ہوں تو اس پر ان بیویوں کے پاس رات میں رہنے اور ان کے کھلانے پلانے میں برابری کرنا واجب ہے ان کے ساتھ جماع کرنے یا جماع نہ کرنے اور پیار و محبت میں برابری کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ کسی عورت کا جماع سے متعلق اس کے شوہر پر حق ہوتا ہے اور وہ ایک بار جماع کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے جماع کرنے کے بارے میں شوہر خود مختار ہے کہ جب چاہے کرے لیکن کبھی کبھی جماع کرلینا اس پر دیانۃً واجب ہے اور مدت ایلاء کے بقدر یعنی چار چار مہینہ تک جماع نہ کرنا خاوند کے لئے مناسب نہیں ہے ہاں اگر بیوی کی مرضی سے اتنے دنوں جماع نہ کرے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ہر بیوی کے ہاں ایک ایک رات اور ایک ایک دن رہنا چاہئے لیکن برابری کرنا رات ہی میں ضروری ہے چناچہ اگر کوئی شخص ایک بیوی کے ہاں مغرب کے فورًا بعد چلا گیا اور دوسری بیوی کے ہاں عشاء کے بعد گیا تو اس کا یہ فعل برابری کے منافی ہوگا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس نے باری کے حکم کو ترک کیا کسی بیوی سے اس کی باری کے علاوہ یعنی کسی دوسری بیوی کی باری میں) جماع نہ کرے اسی طرح کسی بیوی کے پاس اس کی باری کے علاوہ کسی رات میں نہ جائے ہاں اگر وہ بیوی بیمار ہو تو اس کی عیادت کے لئے جاسکتا ہے بلکہ اگر اس کا مرض شدید ہو تو اس کی باری کے علاوہ بھی اس کے پاس اس وقت تک رہنا جائز جب تک کہ وہ شفایاب نہ ہو یا اس کا انتقال ہوجائے لیکن یہ اس صورت میں جائز ہے جب کہ اس کے پاس کوئی اور تیمار داری اور غم خواری کے لئے نہ ہو اور اگر خاوند اپنے گھر میں بیماری کی حالت میں ہو تو وہ اپنی ہر بیوی کو اس کی باری میں بلاتا رہے۔
Top