Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 2955
وعن سعد بن الأطول قال : مات أخي وترك ثلاثمائة دينار وترك ولدا صغارا فأردت أن أنفق عليهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخلك محبوس بدينه فاقض عنه . قال : فذهبت فقضيت عنه ولم تبق إلا امرأة تدعي دينارين وليست لها بينة قال : أعطها فإنها صدقة . رواه أحمد
دین میراث پر مقدم ہے
اور حضرت سعد بن اطول کہتے ہیں کہ جب میرا بھائی مرا تو اس نے تین سو دینار اور چھوٹے چھوٹے لڑکے چھوڑے تھے چناچہ میں نے چاہا کہ ان تین سو دیناروں کو اس کے چھوٹے بچوں پر خرچ کر دوں اور اس کا قرض ادا نہ کروں لیکن رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارا بھائی اپنے قرض کی وجہ سے عالم برزخ میں محبوس کردیا گیا ہے جس کے سبب وہ وہاں کی نعمتوں اور صلحاء کی صحبت سے محروم ہے لہذا تم اس کا قرض ادا کردو حضرت سعد کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی میں گھر آیا اور اپنے بھائی کا قرض ادا کیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنے بھائی کا قرض ادا کردیا ہے اب کسی کا کوئی مطالبہ باقی نہیں ہے ہاں ایک عورت باقی رہ گئی ہے جو دو دینار کا دعوی کر رہی ہے لیکن اس کا گواہ نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کو بھی دو دینار دے دو وہ سچی عورت ہے ( احمد)
تشریح
یا تو آپ ﷺ کو سعد کے بھائی کے قرض کا حال بغیر وحی کے کسی اور ذریعے سے معلوم ہوا ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے سعد کو اس کا قرض ادا کرنے کا حکم دیا کیونکہ حاکم کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنی معلومات پر اعتماد کرتے ہوئے حکم جاری کر دے یا پھر آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اس کے قرض کا حال معلوم ہوا ہوگا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین میراث پر مقدم ہے یعنی مرنیوالے کے مال و زر میں سے پہلے لوگوں کے وہ مطالبات ادا کئے جائیں جو اپنے ذمہ چھوڑ گیا ہو اس کے بعد جو کچھ بچے وہ وارثوں میں تقسم کیا جائے۔
Top