Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (1 - 136)
Select Hadith
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
مشکوٰۃ المصابیح - ایمان کا بیان - حدیث نمبر 1800
وعن سهل بن أبي حثمة حدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
انگور کی زکوۃ
حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم انگوروں اور کھجوروں کی زکوٰۃ کا اندازہ کرلو تو اس میں دو تہائی لے لو اور ایک تہائی چھوڑ دو، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی تو چھوڑ ہی دو۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی)
تشریح
دراصل یہ زکوٰۃ وصول کرنے والوں سے خطاب ہے کہ جب تم زکوٰۃ کی مقدادر متعین کرلو تو اس مقدار متعین میں سے دو تہائی تو لے لو اور ایک تہائی از راہ احسان و مروت مالک کے لئے چھوڑ دو تاکہ وہ اس میں اپنے ہمسایوں اور راہ گیروں کو کھلائے حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک کا یہی مسلک ہے اگرچہ حضرت امام شافعی کا پہلا قول بھی یہی ہے مگر ان کا بعد کا قول یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار واجب میں سے کچھ حصہ بھی نہ چھوڑا جائے۔ اس حدیث کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس کا تعلق خیبر کے یہودیوں سے تھا، چونکہ آنحضرت ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے مساقات (بٹائی) پر معاملہ کر رکھا تھا کہ آدھی کھجوریں وہ رکھا کریں اور آدھی کھجوریں دربار نبوت میں بھیج دیا کریں اس لئے آپ نے وہاں کی کھجوروں کا اندازہ کرنے والے کو یہ حکم دیا تھا کہ پہلے تمام کھجوروں میں سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی ان یہودیوں کے لئے از راہ احسان چھوڑ دیا جائے پھر باقی کھجوروں کو نصف تقسیم کردیا جائے ایک حصہ یہودیوں کو دے دیا جائے اور ایک دربار نبوت میں بھیج دیا جائے۔
Top