Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 6245
وعن خالد بن الوليد قال : كان بيني وبين عمار بن ياسر كلام فأغلظت له في القول فانطلق عمار يشكوني إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء خالد وهو يشكوه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : فجعل يغلظ له ولا يزيده إلا غلظة والنبي صلى الله عليه و سلم ساكت لا يتكلم فبكى عمار وقال : يا رسول الله ألا تراه ؟ فرفع النبي صلى الله عليه و سلم رأسه وقال : من عادى عمارا عاداه الله ومن أبغض عمارا أبغضه الله . قال خالد : فخرجت فما كان شيء أحب إلي من رضى عمار فلقيته بما رضي فرضي
حضرت عمار بن یاسر
اور حضرت خالد بن ولید ؓ کہتے ہیں کہ (ایک موقع پر کسی معاملہ میں) میرے اور عماربن یاسر کے درمیان گفتگو چل رہی تھی کہ میں نے ان کے خلاف ایک سخت بات کہہ دی۔ چناچہ عمار میری شکایت لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور نبی کریم ﷺ سے شکایت کر رہے تھے کہ ادھر سے خالد بھی آگئے۔ راوی کا بیان ہے کہ (دربار رسالت میں اپنی شکایت سن کر) خالد (کو غصہ آگیا اور وہ) عمار کو سخت سست کہنے لگے اور ان کی سخت کلامی ودرشت گوئی میں اضافہ ہوتا رہا، اس وقت نبی کریم ﷺ چپ چاپ بیٹھے سن رہے تھے، ایک حرف زبان سے نہ فرماتے تھے (یہ صورت حال دیکھ کر کہ خالد کی سخت گوئی بڑھتی جارہی ہے اور آنحضرت ﷺ خاموش بیٹھے ہیں) عمار (مارے غصہ کے صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے اور بےاختیار) رونے لگے اور (بلکتے ہوئے) بولے یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ دیکھ نہیں رہے (کہ خالد کیا کر رہے ہیں اور آپ کے سامنے مجھ کو کیا کیا کہہ رہے ہیں؟ ) نبی کریم ﷺ نے (یہ سن کر) اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا جو شخص عمار سے (زبان کی) دشمنی رکھے گا، اس کو اللہ دشمن رکھے گا اور جو شخص عمار سے (دل کا) بغض رکھے گا اللہ اس سے بغض رکھے گا حضرت خالد کہتے کہ (آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی سنتے ہی ہوش ٹھکانے آگئے اور میں نے یہ طے کر کے آپ کی مجلس سے) باہر آیا (کہ جس طرح بھی ہوگا عمار کو خوش اور راضی کروں گا) اور اس وقت کوئی چیز میری نظر میں عمار کے راضی وخوش ہوجانے سے زیادہ پسندیدہ اور بہتر نہیں تھی پھر یہ ہوا کہ میں نے عمار کو راضی وخوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا سلوک اور ایسا رویہ اختیار کیا کہ وہ مجھ سے راضی وخوش ہوگئے (یعنی میں نے ان سے معافی کی تلافی کی، ان کے گلے لگا، ان کے ساتھ تواضع و انکساری سے پیش آنے لگا اور ان کو تحفے تحائف بھیجے اور ان سب باتوں نے ان کی ناراضگی اور ان کے غصہ کو زائل کردیا اور وہ مجھ سے بالکل خوش ہوگئے )۔
تشریح
خالد بھی آگئے یہ الفاظ اس راوی کے ہیں جس نے حضرت خالد سے اس روایت کو نقل کیا ہے اور فجاء خالد سے پہلے قال کا لفظ محذوف ہے، اس کی تائید آگے عبارت میں قال خالد فخرجت کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ تاہم ایک شارح کے مطابق یہ احتمال بھی ہے کہ یہ الفاظ خود حضرت خالد کے ہوں اور بیان حال میں یہاں انہوں نے اسلوب بدل دیا ہو۔
Top