Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 6221
وعن خيثمة بن أبي سبرة قال : أتيت المدينة فسألت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فيسر لي أبا هريرة فجلست إليه فقلت : إني سألت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فوفقت لي فقال : من أين أنت ؟ قلت : من أهل الكوفة جئت ألتمس الخير وأطلبه . فقال : أليس فيكم سعد بن مالك مجاب الدعوة ؟ وابن مسعود صاحب طهور رسول الله صلى الله عليه و سلم ونعليه ؟ وحذيفة صاحب سر رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وعمار الذي أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه صلى الله عليه و سلم ؟ وسلمان صاحب الكتابين ؟ يعني الإنجيل والقرآن . رواه الترمذي
چند مخصوص صحابہ کے فضائل
اور حضرت خیثمہ بن ابی سبرۃ (جو کبار تابعین اور ثقات میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ میں جب مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے دعا مانگی کہ مجھ کو نیک ہمنشین میسر ہو ( یعنی مجھ کو کوئی ایسا نیک بخت مل جائے جو ہمنشین بننے کی کامل استعداد و صلاحیت رکھتا ہو اور اس کی ہمنشینی سے استفادہ کیا جاسکتا ہو) چناچہ حق تعالیٰ نے حضرت ابوہریرہ جیسی ہستی مجھ کو میسر فرمائی جن کی صحبت و ہم نشینی میں نے اختیار کی اور (بغرض استفادہ ان کی خدمت میں حاضری دینے لگا) میں نے (ایک دن ان سے) عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ مجھ کو نیک ہمنشین میسر ہو اور اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرکے آپ جیسا ہمنشین مجھ کو میسر فرمایا حضرت ابوہریرہ ؓ نے پوچھا، تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ میں نے عرض کیا میں کوفہ کا رہنے والا ہوں اور (کوفہ سے چل کر) یہاں اس لئے آیا ہوں کہ (نیک وبابرکت ہمنشینی کے ذریعہ) خیر کا جو یا اور (اپنے نفس کے لئے) خیر کا طلب گار ہوں، (یہ سن کر) حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کیا تمہارے درمیان (یعنی تمہارے شہر میں) سعد بن مالک نہیں ہیں جو مستجاب الدعوات ہیں کیا تمہارے یہاں عبداللہ ابن مسعود نہیں ہیں جو رسول اللہ ﷺ (کے خادم خاص ہونے کی حیثیت سے سفرو حضر میں آپ کے ساتھی ہیں) کہ مسواک ونعلین مبارک (اور تکیہ وچھاگل وغیرہ) اپنے رکھا کرتے تھے، کیا تمہارے پاس حذیفہ نہیں ہیں (جو منافقین وغیرہ کے متعلق) رسول اللہ ﷺ کے محرم اسرار تھے، کیا تمہارے یہاں عمار جیسی ہستی نہیں ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان مبارک کے ذریعہ شیطان سے امن و تحفظ عطا کیا۔ اور کیا تمہارے ہاں سلمان نہیں ہیں جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن کے ماننے والے ہیں؟ (جب خیر و برکت اور علم وفضل رکھنے والی اتنی بڑی بڑی ہستیاں خود تمہارے شہر میں موجود ہیں تو محض صحبت وہمنشینی کے ذریعہ طلب خیر اور استفادہ علم کی خاطر تمہیں اپنا شہر چھوڑ کر یہاں آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی )۔ (ترمذی)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرکے یہفوفقت لیکا تو ضیحی ترجمہ ہے۔ وققتاصل میں وفق سے صیغہ مجہول ہے جس کے معنی ہیں موافق ہونا سازو وار پڑنا، واضح ہو کہ مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں فوفقت لیسے پہلے فیسرلی کے الفاظ منقول ہیں۔ خیرکا جو یا اور میں خیر سے مراد علم وعمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں حکمت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ومن یوتی الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا۔ سعد بن مالک یہ وہی سعد بن ابی وقاص ہیں جن کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے اور جن کا مستجاب الدعوات ہونا بھی بیان ہوا ہے اور وقاص کا اصل نام ملک تھا اور اسی وجہ سے حضرت سعد کو سعد بن ابی وقاص بھی کہا جاتا ہے اور سعد بن مالک بھی۔ حضرت عمار کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے چونکہ یہ دعا جاری ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ عمار کو شیطان اور شیطان کی پیروی سے محفوظ رکھے اور یہ دعا قبول ہوئی اس لئے حضرت عمار گویا آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک کے طفیل میں شیطان اور شیطان کی ذریات سے امن و پناہ میں ہیں۔ جو دو کتابوں یعنی انجیل اور قرآن کے ماننے والے ہیں یعنی حضرت سلمان چونکہ اسلام کی روشنی تک پہنچنے سے پہلے عیسائیت کے پیرو تھے انہوں نے انجیل پڑھی اور اس پر ایمان لائے اور پھر اسلام پاتے ہی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اسلام لائے، قرآن پڑھا اور قرآن پر عمل پیرا ہوئے، اس اعتبار سے وہ دونوں کتابوں کے ماننے والے ہوئے، حضرت سلمان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ انہوں نے ڈھائی سو سال کی طویل عمر پائی ان کا لقب سلمان الخیر تھا۔ ان کے باپ کا نام کوئی نہیں جانتا تھا اگر کوئی شخص ان سے ان کا نسب اور ان کے باپ کا نام پوچھتا تو وہ جواب دیتے انا ابن اسلام یعنی میں اسلام کا بیٹا ہوں۔
Top