Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 6211
وعن ابن عباس قال : خرج النبي صلى الله عليه و سلم في مرضه الذي مات فيه حتى جلس على المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : أما بعد فإن الناس يكثرون ويقل الأنصار حتى يكونوا في الناس بمنزلة الملح في الطعام فمن ولي منكم شيئا يضر فيه قوما وينفع فيه آخرين فليقبل عن محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم رواه البخاري
انصار کی فضیلت
اور حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی اس بیماری کے دوران کہ جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی، (ایک دن) حجرہ مبارک سے باہر آئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اول آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثنا بیان کی، پھر فرمایا بعد ازاں جان لو، لوگو یعنی مسلمانوں کی تعداد ( روز بروز) بڑھے گی (جن میں کا معتد بہ حصہ اپنے اپنے وطن چھوڑ کر بہ نیت ہجرت مدینہ میں آئے گا) اور انصار کی تعداد کم ہوجائے گی یہاں تک دوسرے لوگوں میں ان (انصار) کا تناسب کھانے میں نمک کے برابر رہ جائے گا، پس (اے مہاجرین) تم میں سے جو شخص کسی بھی طرح کے اقتدار کا مالک بنے اور اس کے سبب وہ کچھ لوگوں یعنی نیکوکاروں کو فائدہ پہنچانے اور کچھ لوگوں یعنی بدکاروں کو نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو اس شخص کو چاہئے کہ انصار کے نیکو کاروں (کی نیکی) کو قبول کرے اور ان کے بدکاروں (کی برائی) سے درگزر کرے۔ (بخاری)
تشریح
اور انصار کی تعداد کم ہوجائے گی یعنی انصار چونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس جماعت سے عبارت ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو اپنے یہاں ٹھکانہ دیا اور جان ومال سے آپ ﷺ کی اور مسلمانوں کی مدد کی اس لئے انصار ہونا ایک ایسا وصف ہے جو ایک خاص زمانہ میں جن لوگوں کا نصیب بننا تھا بن گیا، اب آگے یہ وصف کسی کو حاصل نہیں ہوگا اور اس اعتبار سے انصار کی جماعت میں اضافہ کا کوئی سوال نہیں، جب کہ ہجرت کا وصف باقی ہے۔ اور باقی رہے گا جوں جوں لوگ اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اور ہجرت کر کے مدینہ آتے رہیں گے ویسے مہاجرین کی جماعت مدینہ میں بڑھتی رہے گی۔ پس ظاہر یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ گویا یہ پیشین گوئی فرمائی کہ مہاجرین تو بڑھتے رہیں گے، ان کی اولاد کا سلسلہ بھی بہت پھیلے گا اور وہ نہ صرف یہ کہ مختلف شہروں اور علاقوں میں وسیع بنیادوں پر سکونت اختیار کریں گے۔ بلکہ ملکوں کی حکمرانی وجہانبانی بھی انہی کے حصہ میں آئے گی۔ ان کے برخلاف انصار کا طبقہ روز بروز محدود ہوتا جائے گا اور پوری ملت میں ان کا وجود نہایت محدود تعداد میں رہ جائے گا۔ چناچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ واقع میں وہی ہوا جو مخبر صادق ﷺ نے خبر دی تھی۔ کھانے میں نمک کے برابر اس تشبیہہ میں بھی انصار کے کم ہوجانے کی خبر ہے۔ اور ان کی تعریف کی طرف اشارہ بھی ہے یعنی جس طرح نمک کھانے کا ذائقہ سنوارتا، بناتا ہے۔ اسی طرح انصار کا وجود اہل اسلام کے سنوار اور بناؤ کا باعث ہوگا۔
Top