Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 6164
وعن أبي هريرة قال : أتى جبريل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله هذه خديجة قد أتت معها إناء فيه إدام وطعام فإذا أتتك فأقرأ عليها السلام من ربها ومني وبشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب . متفق عليه
خدیجۃ الکبری کی فضیلت
اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور بولے کہ یا رسول اللہ ﷺ ابھی خدیجہ (مکہ سے چل کر غار حرا میں) آرہی ہیں، ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں سالن ( اور روٹی) ہے جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو آپ ﷺ ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے بھی سلام کہہ دیجئے اور ان کو جنت میں ایک محل کی خوش خبری سنا دیجئے جو خولدار موتی ہے اور اس موتی میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و تکان ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جب آنحضرت ﷺ خلوت کے لئے غار حرا چلے جاتے تھے اور کئی کئی دن تک وہاں عبادت اور ذکر الہٰی میں مشغول رہتے تھے۔ آپ ﷺ اپنے ساتھ کھانے پینے کی کچھ چیزیں (جیسے ستو) اور پانی وغیرہ لے لیتے تھے تاکہ بھوک اور پیاس کا غلبہ خلوت گزینی میں مخل نہ ہو، ایک دن خدیجۃ الکبریٰ ؓ آپ ﷺ کے کھانے پینے کا کچھ سامان خود لے کر غار حرا پہنچیں اور مذکورہ سعادت و بشارت سے سرفراز ہوئیں۔ واضح ہو کہ عام طور پر ثابت تو یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خلوت گزینی کے لئے غار حرا میں جانا اور وہاں عبادت و ذکر میں مشغول رہنا اس زمانہ کا معمول تھا جب کہ آپ خلعت نبوت سے سرفراز نہیں ہوئے تھے اور آپ کے پاس حضرت جبرائیل کا آنا جانا شروع نہیں ہوا تھا، لیکن اس میں کجھ استبعاد نہیں کہ مرتبہ نبوت پر فائز ہوتے اور حضرت جبرائیل کی آمد شروع ہوجانے کے بعد بھی کچھ دنوں تک آپ نے یہ معمول جاری رکھا ہو اور انہی دنوں حضرت خدیجہ ؓ کسی دن آپ کے لئے کھانا لے کر غار حرا میں گئی ہوں۔ ان کو سلام کہہ دیجئے علماء نے لکھا ہے کہ رب العلمین کا سلام ایسا شرف ہے جو حضرت خدیجہ ؓ کے سوا دنیا کی کسی عورت کو حاصل نہیں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت عائشہ ؓ کو بھی سلام کہلایا تھا لیکن صرف اپنی طرف سے اسی لئے اس حدیث کو حضرت عائشہ ؓ پر حضرت خدیجہ ؓ کی فضیلت کی دلیل قرار دیا جاتا ہے۔ جو خولدار موتی کا ہے قصب کا اطلاق اس موتی پر ہوتا ہے جو بہت بڑا ہو اور اندر سے خالی ہو روایتوں میں آتا ہے کہ جنت کے محلات پر جو گنبد ہوں گے وہ دراصل قبہ جسے بڑے بڑے موتی ہوں گے جن کے اندر سے خلا ہوگا۔ لہٰذا اس جملہ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس محل کا گنبد ایک پورا موتی ہوگا، یا یہ کہ وہ پورا محل موتی کا ہوگا یعنی ایک اتنا بڑا موتی ہوگا جس کے اندر کا خلاء ایک پورے محل پر محیط ہوگا۔ اس محل میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف اور تکان ہے بطور خاص ان دونوں چیزوں کی نفی اس اعتبار سے کی گئی ہے کہ دنیاوی گھروں میں رہنے والوں کو دو ناگوار چیزوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ایک تو شور و غل کا اور دوسرے اس محنت و مشقت اور تکلیف و تکان کا جو گھروں کو بنانے، سنوارنے اور سجانے میں ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جنت کے محلات ان ناگوار اور تکلیف دہ چیزوں سے خالی ہوں گے نیز علماء نے لکھا ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ کے حق میں یہ بشارت گو اس مقام کا اعلان تھا جو ان کو اس بات کے بدلہ میں عطا ہوا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت اسلام کو سب سے پہلے بطیب خاطر اور بخوشی قبول کرلیا تھا انہوں نے خدائی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا آبائی مذہب یک لخت اس طرح ترک کردیا کہ نہ تو کسی طرح کا شور شرابہ ہونے دیا نہ بحث و تکرار اور لڑنے جھگڑنے کے تعب میں پڑیں
Top