Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 5842
وعن جابر قال : غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا على ناضح لنا قد أعيا فلا يكاد يسير فتلاحق بي النبي صلى الله عليه و سلم فقال لي ما لبعيرك قلت : قدعيي فتخلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فزجره ودعا له فما زال بين يدي الإبل قدامها يسير فقال لي كيف ترى بعيرك قال قلت بخير قد أصابته بركتك قال أفتبيعنيه بوقية . فبعته على أن لي فقار ظهره حتى المدينة فلما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة غدوت عليه بالبعير فأعطاني ثمنه ورده علي . متفق عليه
اونٹ سے متعلق معجزہ
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں ایک جہاد کے سفر میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھا اور آب کش اونٹ پر سوار تھا، وہ اونٹ ( اتنا زیادہ) تھک گیا تھا) کہ جیسا اس کو چلنا چاہئے تھا اس طرح چلنے پر قادر نہیں تھا ( ایک جگہ پہنچ کر) میرا اور نبی کریم ﷺ کا ساتھ ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اونٹ کو کیا ہوگیا ہے ( کہ اچھی طرح نہیں چل رہا ہے) میں نے کہا کہ تھک گیا ہے ( یہ سن کر رسول کریم ﷺ میرے اونٹ کے پیچھے آگئے اور ( یا تو کسی چیز سے مار کر یا محض آواز کے ذریعہ) اس کو ہانکا اور پھر اس کے حق میں ( تیز روی کی) دعا فرمائی اس کا اثر یہ ہوا کہ میرا اونٹ سب سے آگے رہنے لگا، پھر آپ ﷺ نے پوچھا ( کہو) اب تمہارے اونٹ کا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا آپ ﷺ کی برکت سے اب خوب چلتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اس اونٹ کو چالیس درہم کے بدلے بیچٹے ہو؟ میں نے اس شرط پر اس اونٹ کو ( آپ ﷺ کے ہاتھ) بیچ دیا کہ مدینہ تک یہ اونٹ میری ہی سواری میں رہے گا۔ پھر رسول کریم ﷺ اور ہم لوگ) جب مدینہ پہنچ گئے تو اگلے ہی دن صبح کو میں اونٹ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ( تاکہ اونٹ سپرد کر کے اس کی طے شدہ رقم لے لوں) آپ ﷺ نے معاملہ کے مطابق) قیمت مجھے عطا فرما دی لیکن ( ازراہ) عنایت وہ اونٹ بھی مجھ ہی کو دے دیا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
میں نے اس شرط پر اس اونٹ کو بیچ دیا۔۔ الخ۔ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز بیچتے وقت ایسی شرط عائد کرنا جس سے بیچنے والے کو فائدہ ہو جائز ہے حالانکہ مسئلہ کی رو سے یہ جائز نہیں ہے! پس یا تو اس مسئلہ میں یہ حدیث منسوخ کے حکم میں ہے یا یہ کہ مذکورہ شرط کا تعلق عین عقد سے نہیں تھا بلکہ خریدو فروخت کا معاملہ ہو جانیکے بعد یا تو حضرت جابر کی درخواست پر یا خود آنحضرت ﷺ کی عنایت سے یہ طے پایا کہ مدینہ تک یہ اونٹ جابر کی سواری میں رہے گا تاہم یہ وضاحت حدیث کی ظاہری عبارت سے میل نہیں رکھتی۔
Top