Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
Hadith (604 - 701)
Select Hadith
604
605
606
607
608
609
610
611
612
613
614
615
616
617
618
619
620
621
622
623
624
625
626
627
628
629
630
631
632
633
634
635
636
637
638
639
640
641
642
643
644
645
646
647
648
649
650
651
652
653
654
655
656
657
658
659
660
661
662
663
664
665
666
667
668
669
670
671
672
673
674
675
676
677
678
679
680
681
682
683
684
685
686
687
688
689
690
691
692
693
694
695
696
697
698
699
700
701
مشکوٰۃ المصابیح - اذان کا بیان - حدیث نمبر 5243
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من خاف أدلج ومن أدلج بلغ المنزل . ألا أن سلعة الله غالية ألا إن سلعة الله الجنة . رواه الترمذي .
حکیمانہ نصیحت
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص اس بات سے ڈرتا ہے کہ اس کا دشمن رات کے آخری حصے میں دھاوا بولنے والا ہے تو وہ رات کے پہلے ہی حصے میں اپنے بچاؤ کا راستہ اختیار کرلیتا ہے تاکہ دشمن کی غارت گری سے محفوظ رہ سکے اور جو شخص رات کے پہلے حصے میں بھاگنا شروع کردیتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے جان لو اللہ کا مال بہت قیمتی ہے جو نہایت اونچی قیمت چکائے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا اور وہ اونچی قیمت اس کی راہ میں جان ومال کی قربانی ہے اور یاد رکھو اللہ کا مال جنت ہے۔ (ترمذی)
تشریح
منزل سے مراد مطلوب و مقصود کو حاصل کرلینا ہے طیبی کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے گویا رہر و آخرت کی مثال بیان فرمائی ہے کہ شیطان اس کی تاک میں ہے نفس اور اس کی باطل آرزوئیں اس شیطان کی مددگار ہیں اور اس طرح وہ اس شخص کی مانند ہے جس کا طاقتور اور عیار دشمن اس پر دھاوا بولنے کے لئے تیار کھڑا ہو اور انتظار کر رہا ہو کہ رات کا پچھلا پہر آئے تو تاریکی اور سناٹے میں اس پر حملہ کر کے اس کو غارت وتباہ کر دے، پس اگر وہ رہر و آخرت ہوشیار ہوجائے، راہ ہدایت پر ابتداء ہی سے چلنا شروع کر دے اور اپنے اعمال میں نیت کا اخلاص پیدا کرلے تو وہ یقینا شیطان سے اور اس کے مکر سے محفوظ رہے گا۔ ورنہ وہ اتنا عیار دشمن ہے کہ جہاں ذرا سی غفلت دیکھتا ہے اپنے مددگاروں کو لے کر فورا دھاوا بول دیتا ہے اور ہلاکت میں دال دیتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس امر کی راہنمائی فرمائی کہ راہ آخرت پر چلنا نہایت دشوار اور وہاں کی نعمتیں وسعادتیں حاصل کرنا سخت مشکل ہے، اس راستے میں ذرا سی غفلت وسستی بھی منزل کو دور سے دور کردیتی ہے جب تک زیادہ سے زیادہ محنت وعمل اور سعی و کوشش نہیں کی جاتی وہ نعمتین اور سعادتیں پوری طرح حاصل نہیں ہوسکتیں چناچہ آپ ﷺ نے جان لو اللہ کا مال بہت قیمتی ہے کے ذریعے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مال یعنی جنت کی اگر کوئی قیمت ہوسکتی ہے اور اگر اس کو کسی چیز کے بدلے میں حاصل کیا جاسکتا ہے تو وہ اللہ پرستی و خدا ترسی اور نیک اعمال کا سرمایہ ہے اگر اللہ کی جنت حاصل کرنا چاہتے ہو تو نیکی کے راستے کو اختیار کرو، برائی کے نزدیک بھی نہ بھٹکو اور زیادہ سے زیادہ اچھے کام کرو۔ اسی مفہوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ذریعے اشارہ فرمایا ہے۔ آیت (والباقیات الصالحات خیر عند ربک ثوابا وخیر املا)۔ اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجے بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی ہزار درجے بہتر ہے۔ اور فرمایا۔ آیت (ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ)۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔
Top